حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 388
388 پادری فتح مسیح کا ایک سوال پادری فتح مسیح متعین فتح گڑھ ضلع گورداسپور نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف ایک نہایت گندا خط بھیجا اور اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بہت ہی گندے الزامات لگائے اور کئی سوالات کے جوابات دریافت کئے۔مستفسرہ سوالات میں سے ایک سوال یہ دریافت کیا کہ۔"اگر آج ایسا شخص جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تھے گورنمنٹ انگریزی کے زمانہ میں ہوتا تو گورنمنٹ اس سے کیا سلوک کرتی ؟ “ چنانچہ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔کیا آپ کو خبر نہیں کہ قیصر روم جو آنجناب ﷺ کے وقت میں عیسائی بادشاہ اور اس گورنمنٹ سے اقبال میں کچھ کم نہ تھا وہ کہتا ہے۔کہ اگر مجھے یہ سعادت حاصل ہو سکتی۔کہ میں اس عظیم الشان نبی کی صحبت میں رہ سکتا۔تو میں آپ کے پاؤں دھویا کرتا۔سو جو قیصر روم نے کہا۔یقیناً یہ سعادت مند گورنمنٹ بھی وہی بات کہتی۔بلکہ اس سے بڑھ کر کہتی۔اگر حضرت مسیح کی نسبت اس وقت کے کسی چھوٹے سے جاگیردار نے بھی یہ کلمہ کہا ہو۔جو قیصر روم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کہا۔جو آج تک نہایت صحیح تاریخ اور احادیث صحیحہ میں لکھا ہوا موجود ہے۔تو ہم آپ کو ابھی ہزار روپیہ نقد بطور انعام کے دیں گے۔اگر آپ ثابت کر سکیں۔اور اگر آپ یہ ثبوت نہ دے سکیں۔تو اس ذلیل زندگی سے آپ کے لئے مرنا بہتر ہے۔(نور القرآن نمبر۲۔روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۳۸۳٬۳۸۲)