حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 382 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 382

382 سے زیر بحث چلا آتا ہے سیر کن بحث کی اور دلائل قطعیہ سے ثابت کر دیا کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر اور حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنھم اگر چہ چاروں خلیفہ برحق تھے لیکن حضرت ابوبکر سب صحابہ سے اعلیٰ شان رکھتے تھے اور اسلام کیلئے وہ آدم ثانی تھے اور بنظر انصاف دیکھا جائے تو آیت استخلاف کے حقیقی معنوں میں وہی مصداق تھے۔حضرت ابوبکر اور حضرت عمر پر شیعہ صاحبان کی طرف سے جو اعتراضات کئے جاتے ہیں ان کے مدلل اور مسکت جواب بھی دیئے ہیں نیز ان کے اور باقی صحابہ کے فضائل کا بھی ذکر فرمایا ہے۔اور شیعوں کی غلطی کو قرآن آیات کی روشنی میں الم نشرح کیا ہے۔پھر اہلسنت اور شیعوں کے آپس کے جھگڑوں کا جن میں اکثر لڑائی اور مقدمات تک نوبت پہنچتی ہے ذکر کر کے فیصلہ کا ایک یہ طریق پیش کیا ہے کہ۔” ہم دونوں فریق میدان میں حاضر ہو کر خدا تعالیٰ سے نہایت تضرع اور الحاح سے دعا کریں اور لعنۃ اللہ علی الکاذبین کہیں۔پھر اگر ایک سال تک فریق مخالف پر میری دعا کا اثر ظاہر نہ ہو تو میں عذاب اپنے لئے قبول کروں گا اور اقرار کروں گا کہ میں صادق نہیں۔اور علاوہ ازیں ان کو پانچ ہزار روپیہ بھی انعام دوں گا۔اور یہ روپیہ اگر چاہیں تو میں گورنمنٹ کے خزانے میں جمع کرا سکتا ہوں۔یا جس کے پاس وہ چاہیں۔لیکن اس مقابلہ کیلئے جو حاضر ہو وہ عام آدمی نہ ہو اور ایسے شخص کیلئے ضروری ہوگا کہ پہلے وہ میرے اس رسالہ کی طرح عربی زبان میں رسالہ لکھے تا معلوم ہو کہ وہ اہل علم و فضل سے ہے۔( سرالخلافہ۔روحانی خزائن جلد ۸ صفحہ ۳۳۷) مگر اہل تشیع کی طرف سے صدائے برنخو است۔سر الخلافہ کے آخر پر حضرت اقدس نے عقیدہ ظہور مہدی کا ذکر کر کے اپنے دعوی مہدویت پر شرح وبسط سے بحث کی۔اور اس سلسلہ میں شیعہ اور اہل سنت دونوں فرقوں کے خیالات کو باطل قرار دیا۔اور فرمایا کہ اگر ان تمام دلائل کے باوجود اعراض کرتے ہیں اور قبول نہیں کرتے تو