حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 362 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 362

362 ایک اعتراض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال پر مولویوں کے غلط پروپیگنڈا کے جواب میں جب علماءسلسلہ نے اس پہلو سے مولویوں کا تعاقب کیا کہ مولوی ثناء اللہ صاحب نے تو اس چیلنج کو قبول ہی نہیں کیا جبکہ مباہلہ میں فریقین کی شمولیت لازمی ہے۔پس اس صورت میں یہ چیلنج کسی فریق کیلئے بھی قابل حجت نہ رہا۔اس پر مولویوں نے یہ پہلو اختیار کیا کہ ۱۵ اپریل ۱۹۰۷ ء والے اشتہار کی تحریر دعائے مباہلہ نہ تھی بلکہ یک طرفہ دعا تھی جس کی قبولیت کے متعلق مرزا صاحب کو ۱۴ اپریل ۱۹۰۷ء کو یہ الہام بھی ہو چکا تھا اجیب دعوة الداع۔اس الہام کے باوجود مرزا صاحب کی پہلے وفات آپ کے جھوٹا ہونے کا واضح ثبوت ہے۔“ ( محمدیہ پاکٹ بک صفحه ۴۴۲) جواب مولویوں کا یہ اعتراض درج ذیل وجوہ کی بناء پر غلط ہے۔اول۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعائے مباہلہ والے اشتہار کا عنوان ”مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ تھا۔اس عنوان میں لفظ ”آخری فیصلہ صاف بتا رہا ہے کہ یہ دعائے مباہلہ تھی کیونکہ لفظ ”آخری فیصلہ مذہبی رنگ میں مباہلہ کے لئے ہی بولا جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس لفظ کو اسی مفہوم میں استعمال فرمایا ہے (اربعین نمبر ۴ صفحہ ۱) بلکہ مولوی ثناء اللہ امرتسری صاحب کے قلم سے بھی اللہ تعالیٰ نے اس لفظ کو انہی معنوں میں استعمال کروایا ہے۔چنانچہ خود مولوی صاحب آیت مباہلہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں۔ایسے لوگوں کو جو کسی دلیل کو نہ جانہیں کسی علمی بات کو نہ سمجھیں ، بغرض بدرا بدر باید رسا کرد۔کہ آؤ ایک آخری فیصلہ بھی سنو۔ہم اپنے بیٹے اور تمہارے بیٹے ، اپنی بیٹیاں