حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 360
360 اور مغالطہ دہی سے بھری ہوئی ایک تحریر درج کر دی جس کا خلاصہ مضمون در رج ذیل ہے۔ا۔اول اس دعا کی منظوری مجھ سے نہیں لی گئی اور بغیر منظوری کے اس کو شائع کر دیا ۲۔یہ کہ اس مضمون کو بطور الہام کے شائع نہیں کیا گیا بلکہ محض دعا کے طور پر ہے جس سے یہ تحریر کسی صورت میں فیصلہ کن نہیں ہو سکتی۔۳۔میرا مقابلہ تو آپ سے ہے۔اگر میں مر گیا تو میرے مرنے سے اور لوگوں پر کیا حجت ہو سکتی ہے؟ ۴۔خدا کے رسول چونکہ رحیم و کریم ہوتے ہیں اور ان کی ہر وقت یہی خواہش ہوتی ہے کہ کوئی شخص ہلاکت میں نہ پڑے۔مگر اب کیوں آپ میری ہلاکت کی دعا کرتے ہیں۔۔مختصر یہ کہ میں تمہاری درخواست کے مطابق حلف اٹھانے کو تیار ہوں اگر تم اس حلف کے نتیجے سے مجھے اطلاع دو۔اور یہ تحریر مجھے منظور نہیں۔اور نہ کوئی دانا اس کو منظور کر سکتا ہے۔۔خدا تعالیٰ جھوٹے ، دغا باز ،مفسد اور نافرمان لوگوں کولمبی عمریں دیا کرتا ہے تا کہ وہ اس مہلت میں اور بھی برے کام کر لیں۔(خلاصہ جواب امرتسری صاحب از اخبار اہلحدیث ۲۶ اپریل ۱۹۰۷ء) مولوی ثناء اللہ امرتسری صاحب کے مذکورہ بالا جواب سے ظاہر ہے کہ مولوی صاحب نے حضرت اقدس کے تجویز کردہ فیصلہ کو کہ ”جھوٹا بچے کی زندگی میں ہلاک ہو قبول نہیں کیا تھا اور اسے بے نتیجہ قرار دیا تھا اور یہاں تک لکھ دیا کہ۔آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم با وجود سچے نبی ہونے کے مسیلمہ کذاب سے پہلے انتقال فرما گئے اور مسیلمہ کذاب کا ذب ہونے کے صادق کے پیچھے مرا۔“ ( مرقع قادیانی ۹ راگست ۱۹۰۷ء صفحه۱۱)