حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 266 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 266

266 کہ خدا نے مجھے میرے بزرگ واجب الاطاعت سید نا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی دائمی زندگی اور پورے جلال اور کمال کا یہ ثبوت دیا ہے کہ میں نے اس کی پیروی سے اس کی محبت سے آسمانی نشانوں کو اپنے اوپر اترتے ہوئے اور دل کو یقین کے نور سے پر ہوتے ہوئے پایا اور اس قدر نشان غیبی دیکھے کہ ان کھلے کھلے نوروں کے ذریعہ سے میں نے اپنے خدا کو پالیا ہے۔خدا کے عظیم الشان نشان بارش کی طرح میرے پر اتر رہے ہیں اور غیب کی باتیں میرے پر کھل رہی ہیں۔ہزار ہا دعا ئیں اب تک قبول ہو چکی ہیں اور تین ہزار سے زیادہ نشان ظاہر ہو چکا ہے۔ہزار معزز اور متقی اور نیک بخت آدمی اور ہر قوم کے لوگ میرے نشانوں کے گواہ ہیں اور تم خود گواہ ہو۔“ ایک دوسرے مقام پر فرمایا:۔تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۴۰) ” اس نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشانات ظاہر کئے ہیں جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔“ 66 مگر افسوس کہ ان نشانات سے سبق حاصل کرنے کی بجائے ان کا انکار کیا گیا اور یہاں تک تضحیک کی گئی کہ کہا کہ ایسے نشانات تو ہم بھی دکھا سکتے ہیں۔جس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تمام مذاہب کے پیروکاروں کو نشان نمائی میں مقابلہ کے بے شمار چیلنج دیئے مگر کسی کو بھی اس میدان میں اترنے کی توفیق نہ مل سکی۔دعوت نشان نمائی ۱۸۸۵ء کے شروع میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مختلف مذاہب کے لیڈروں اور پیشواؤں کو اسلام کی تازہ بتازہ برکات اور آیات کے دیکھنے کی دعوت دی۔اس غرض کیلئے آپ نے اپنے دعوئی پر مشتمل ایک اشتہار بھی انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں شائع فرمایا۔اور