حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 267
267 ساتھ ہی اعلانِ دعوت کے نام سے آپ نے ایک خط بھی شائع فرمایا جس میں ہندوستان و پنجاب کے مختلف مذاہب کے لیڈروں کو نشان نمائی کی دعوت دی گئی جس میں لکھا کہ :۔اصل مدعا جس کے ابلاغ سے میں مامور ہوا ہوں یہ ہے دین حق جو خدا کی مرضی کے موافق ہے صرف اسلام ہے اور کتاب حقانی جو منجانب اللہ محفوظ اور واجب العمل ہے صرف قرآن ہے۔اس دین کی حقانیت اور قرآن کی سچائی پر عقلی دلائل کے سوا آسمانی نشانوں (خوارق و پیشنگوئیوں) کی شہادت بھی پائی جاتی ہے جس کو طالب صادق اس خاکسار (مولف براہین احمدیہ کی صحبت اور صبر اختیار کرنے سے بمعائنہ چشم تصدیق کر سکتا ہے آپ کو اس دین کی حقانیت یا ان آسمانی نشانوں کی صداقت میں شک ہو تو آپ طالب صادق بن کر قادیان میں تشریف لاویں اور ایک سال تک اس عاجز کی صحبت میں رہ کر ان آسمانی نشانوں کا خود مشاہدہ کر لیں ولیکن اس شرط نیت سے (جو طلب صادق کی نشانی ہے ) کہ بجر د معائنہ آسمانی اسی جگہ ( قادیان ) میں شرف اظہار اسلام یا تصدیق خوارق سے مشرف ہو جائیں گے۔اس شرط نیت سے آپ آویں گے تو ضرور آسمانی نشان مشاہدہ کریں گے۔اس امر کا خدا کی طرف سے وعدہ ہو چکا ہے جس میں تخلف کا امکان نہیں۔اب آپ تشریف نہ لائیں تو آپ پر خدا کا موخذہ رہا اور بعد انتظار تین ماہ کے آپ کی عدم توجہی کا حال درج حصہ پنجم کتاب ہوگا اور اگر آپ آویں اور ایک سال رہ کر کوئی آسمانی نشان مشاہدہ نہ کریں تو دوسو روپیہ ماہوار کے حساب سے آپ کو ہرجانہ یا جرمانہ دیا جائے گا۔اس دوسو روپیہ ماہوار کو آپ اپنے شایانِ شان نہ سمجھیں تو اپنے ہرج اوقات کا عوض یا ہماری وعدہ خلافی کا جرمانہ جو آپ اپنی شان کے لائق قرار دیں گے ہم اس کو بشرط استطاعت قبول کریں گے۔طالبان حرجانہ یا جرمانہ کے لئے ضروری ہے کہ