حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 241 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 241

241 ضروری ہے۔پھر یہی شخص لکھتا ہے کہ تمہیں اپنے جھوٹے الہام پر ذرہ شرم نہ آئی۔پر میں کہتا ہوں کہ سیاہ دل! الہام جھوٹا نہیں تھا۔تجھ میں خود الہی کلام کے سمجھنے کا مادہ نہیں۔الہام میں کوئی لفظ نہ تھا کہ اس حمل میں ہی لڑکا پیدا ہو جائے گا۔اب بجز اس کے میں کیا کہوں کہ لعنۃ اللہ علی الکاذبین۔بیشک مجھے الہام ہوا تھا کہ موعو دلڑ کے سے قومیں برکت پائیں گی۔مگر ان اشتہارات میں کوئی ایسا الہی الہام نہیں جس نے کسی لڑکے کی تخصیص کی ہو کہ یہی موعود ہے۔اگر ہے تو لعنت ہے تجھ پر اگر تو وہ الہام پیش نہ کرے۔ہاں دوسرے حمل میں جیسا کہ پہلے سے مجھے ایک اور لڑکے کی بشارت ملی تھی لڑکا پیدا ہوا۔سو یہ بجائے خود ایک مستقل پیشگوئی تھی جو پوری ہو گئی جس کا ہمارے مخالفوں کو صاف اقرار ہے۔ہاں اگر اس پیشگوئی میں کوئی ایسا الہام میں نے لکھا ہے جس سے ثابت ہوتا ہو کہ الہام نے اسی کو موعودلر کا قرار دیا تھا تو کیوں وہ الهام پیش نہیں کیا جاتا۔پس جبکہ تم الہام کے پیش کرنے سے عاجز ہو تو کیا یہ لعنت تم پر ہے یا کسی اور پر۔اور یہ کہنا کہ اس لڑکے کو بھی مسعود کہا ہے۔تو اے نابکار مسعودوں کی اولاد مسعود ہی ہوتی ہے الا شاذ و نادر کون باپ ہے جو اپنے لڑکے کو سعادت اطوار نہیں بلکہ شقاوت اطوار کہتا ہے۔کیا تمہارا یہی طریق ہے؟ اور بالفرض اگر میری یہی مراد ہوتی تو میرا کہنا اور خدا کا کہنا ایک نہیں ہے۔میں انسان ہوں ممکن ہے کہ اجتہاد سے ایک بات کہوں اور وہ صحیح نہ ہو۔پر میں پوچھتا ہوں کہ وہ خدا کا الہام کونسا ہے کہ میں نے ظاہر کیا تھا کہ پہلے حمل میں ہی لڑکا پیدا ہو جائے گا یا جو دوسرے میں پیدا ہو گا۔وہ درحقیقت وہی موعود دلڑ کا ہو گا۔اور وہ الہام پورا نہ ہوا۔اگر ایسا الہام میرا تمہارے پاس موجود ہے تو تم پر لعنت ہے اگر وہ الہام شائع نہ کرو!“ (حجۃ اللہ۔روحانی خزائن جلد ۱۲، صفحہ ۱۵۸،۱۵۷)