حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 236 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 236

236 پھانسی کی سزا سے مارے جائیں گے تو ان کی لاش مجھے مل جائے اور پھر وہ اس لاش سے جو چاہیں کریں جلادین دریا برد کریں یا اور کارروائی کریں۔چنانچہ اس شرط کے جواب میں حضرت اقدس نے فرمایا:۔یہ شرط بھی مجھے منظور ہے اور میرے نزدیک بھی جھوٹے کی لاش ہر ایک ذلت کے لائق ہے اور یہ شرط در حقیت نہایت ضروری تھی جو لالہ گنگا رام صاحب کو عین موقعہ پر یاد آ گئی لیکن ہمارا بھی حق ہے کہ یہی شرط بالمقابل اپنے لئے بھی قائم کریں۔اور وہ یہ ہے کہ جب گنگا بشن رام صاحب حسب منشاء پیشگوئی مر جائیں تو ان کی لاش بھی ہمیں مل جائے تا بطور نشان فتح وہ لاش ہمارے قبضہ میں رہے اور ہم اس لاش کو ضائع نہیں کریں گے بلکہ بطور نشان فتح مناسب مصالحوں کے ساتھ محفوظ رکھ کر عام منظر میں یا لا ہور کے عجائب گھر میں رکھا دیں گے لیکن چونکہ لاش کے وصول پانے کے لئے ابھی سے کوئی احسن انتظام چاہئے لہذا اس سے زیادہ کوئی انتظام احسن معلوم نہیں ہوتا کہ پنڈت لیکھرام کی یادگار کے لئے جو پچاس ہزار یا ساٹھ ہزار روپیہ جمع ہوا ہے اس میں سے دس ہزار روپیہ بطور ضمانت لاش ضبط ہوکر سرکاری بنک میں جمع رہے اور کاغذات خزانہ میں یہ لکھوا دیا جائے اگر ایک سال کے اندرگنگا رام فوت ہو گیا اور اس کی لاش ہمارے حوالہ نہ کی گئی تو بعوض اس کے بطور قیمت لاش یا تاوان عدم حوالگی لاش دس ہزار روپیہ ہمارے حوالہ کر دیا جائے گا اور ایسے اقرار کی ایک نقل معہ دستخط عہدہ دار افسر خزانہ کے مجھے بھی ملنی چاہئے۔“ از اشتہار ۱۶ اپریل ۱۸۹۷ء مجوعه اشتہارات جلد ۲ صفحه ۹۱ ۹۲) حضرت اقدس کی اس شرط کے جواب میں لالہ گنگا بشن صاحب نے لکھا کہ:۔میں آریہ سماج کا نمبر نہیں تا وہ اس قدر میرے لئے ہمدردی کر سکیں کہ دس ہزار روپیہ