حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 237 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 237

237 66 جمع کرا دیں۔( از اشتہار ۲۷ /۱ اپریل ۱۸۹۷ء مجوعہ اشتہارات جلد۲) حضرت اقدس نے جواباً لکھا کہ:۔یادر ہے کہ گنگا بشن صاحب کو دس ہزار روپیہ جمع کرانا کچھ بھی مشکل نہیں کیونکہ گر آریہ صاحبوں کی بھی درحقیقت یہی رائے ہے کہ لیکھرام کا قاتل در حقیقت یہی راقم ہے اور وہ یقین دل سے جانتے ہیں کہ الہام اور مکالمہ الہی سب جھوٹی باتیں ہیں بلکہ اس راقم کی سازش سے وقوعہ قتل ظہور میں آیا ہے تو بشوق دل لالہ گنگا بشن کو مدد دیں گے اور دس ہزار کیا پچاس ہزار تک جمع کرا سکتے ہیں اور وہ یہ بھی انتظام کر سکتے ہیں کہ جو دس ہزار روپیہ مجھ سے لیا جائے وہ آریہ سماج کے نیک کاموں میں خرچ ہو گا تو اب آریہ صاحبوں کا اس بات میں کیا حرج ہے کہ بطور ضمانت دس ہزار روپیہ جمع کرا دیں بلکہ یہ تو ایک مفت کی تجارت ہے جس میں کسی قسم کا دھڑ کا نہیں۔اس میں یہ بھی فائدہ ہے کہ گورنمنٹ کو معلوم رہے گا کہ آریہ قوم کی رضامندی سے یہ معاملہ وقوع میں آیا ہے اور نیز اس اعلی نشان سے روز کے جھگڑے طے ہو جائیں گے۔اور اگر یہ حالت ہے کہ آریہ قوم کے معزز لالہ گنگا گشن کو اس رائے میں کہ یہ عاجز لیکھرام کا قاتل ہے جھوٹا سمجھتے ہیں۔۔۔تو پھر مجھے کونسی ضرورت ہے کہ ایسے شخص کے مقابلہ کا فکر کروں جس کو پہلے سے اس کی قوم ہی جھوٹا تسلیم کر چکی ہے۔“ آخر میں حضور نے لکھا کہ اگر لالہ گنگا بشن کو ہماری یہ شرط منظور نہیں تو آئندہ ان کو ہرگز جواب نہیں دیا جائے گا اور ان کے مقابل پر یہ ہمارا آخری اشتہار ہے۔“ از اشتہار ۲۷ را پریل ۱۸۹۷ء مجوعہ اشتہارات جلد ۲ صفحه ۱۰۲۱۰۱) حضرت اقدس کے اس اشتہار کے بعد لالہ گنگا بشن صاحب بالکل خاموش ہو گئے۔