حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 229 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 229

229 جو مدت سے برقع ہیں اپنا مونہ چھپا کر کبھی اپنے اشتہاروں میں ہمیں گالیاں دیتا ہے کبھی ہم پر تہمتیں لگاتا ہے اور فریبوں کی طرف نسبت دیتا ہے۔اور کبھی ہمیں مفلس بے زر قرار دے کر یہ کہتا ہے کہ کس کے پاس مقابلہ کے لئے جاویں وہ تو کچھ بھی جائداد نہیں رکھتا۔ہمیں کیا دے گا۔کبھی ہمیں قتل کرنے کی دھمکی دیتا ہے اور اپنے - اشتہاروں میں ۲۷۔جولائی ۱۸۸۶ء سے تین برس تک ہماری زندگی کا خاتمہ بتلاتا ہے۔ایسا ہی ایک بیرنگ خط میں بھی جو کسی انجان کے ہاتھ سے لکھایا گیا ہے جان سے مار دینے کے لئے ہمیں ڈراتا ہے۔لہذا ہم بعد اس دعا کے کہ یا الہی تو اس کا اور ہمارا فیصلہ کر۔اس کے نام یہ اعلان جاری کرتے ہیں۔اور خاص اسی کو اس آزمائش کے لئے بلاتے ہیں کہ اب برقع سے مونہہ نکال کر ہمارے سامنے آوے اور اپنا نام و نشان بتلاوے اور پہلے چند اخباروں میں شرائط متذکرہ ذیل پر اپنا آزمائش کے لئے ہمارے پاس آنا شائع کر کے اور پھر بعد تحریری قرار داد چالیس دن تک امتحان کے لئے ہماری صحبت میں رہے۔اگر اس مدت تک کوئی ایسی الہامی پیشگوئی ظہور میں آگئی جس کے مقابلہ سے وہ عاجز رہ جائے تو اسی جگہ اپنی لمبی چوٹی کٹا کر اور رشتہ ہے سودز نارکو تو ڑ کر اس پاک جماعت میں داخل ہو جائے جولا الہ الا اللہ کی توحید سے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل رہبری سے گم گشتگان باد یہ شرک و بدعت کو صراط مستقیم کی شاہ راہ پر لاتے جاتے ہیں پھر دیکھے کہ بے انتہا قدرتوں اور طاقتوں کے مالک نے کیسے ایک دم میں اندرونی آلائشوں سے اسے صاف کر دیا ہے اور کیونکر نجاست بھرا ہوالتہ ایک صاف اور پاک پیرایہ کی صورت میں آ گیا ہے لیکن اگر کوئی پیش گوئی اس چالیس دن کے عرصہ میں ظہور میں نہ آئے تو چالیس دن کے حرجانہ میں سورو پیر یا جس قدر کوئی ماہواری تنخواہ سرکار انگریزی میں پاچکا ہو اس کا دو چند ہم سے