حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 227 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 227

227 موافق صرف یہ بیان کیا تھا کہ کوئی کافر اور فاسق جب عذاب کے اندیشہ سے عظمت اور صداقت اسلام کا خف اپنے دل میں ڈال لے اور اپنی شوخیوں اور بے باکیوں کی کسی قدر رجوع کے ساتھ اصلاح کرلے تو خدا تعالٰی وعدہ عذاب دنیوی میں تاخیر ڈال دیتا ہے یہی تعلیم سارے قرآن میں موجود ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ کفار کا قول ذکر کر کے فرماتا ہے ربنا اكشف عنا العذاب انا مومنون۔( الدخان: ۱۳) اور پھر جواب میں فرماتا ہے انا کاشفوا العذاب قليلا انكم عائدون۔(الدخان: ۱۶ ) سورة الدخان الجز ونمبر ۲۵ یعنی کا فر عذاب کے وقت کہیں گے کہ اے خدا ہم سے عذاب دفع کر کہ ہم ایمان لائے اور ہم تھوڑ اسا یا تھوڑی مدت تک عذاب دور کر دیں گے مگر تم اے کا فرو پھر کفر کی طرف عود کرو گے۔پس ان آیات سے اور ایسا ہی ان آیتوں سے جن میں قریب الغرق کشتیوں کا ذکر ہے صریح منطوق قرآنی سے ثابت ہوتا ہے کہ عذاب دنیوی ایسے کافروں کے سر پر سے ٹل جاتا ہے جو خوف کے دنوں اور وقتوں میں حق اور توحید کی طرف رجوع کریں گوامن پا کر پھر بے ایمان ہو جا ئیں بھلا اگر ہمارا یہ بیان صحیح نہیں ہے تو اپنے معلوم شیخ بٹالوی کو کہو کہ قسم کھا کر بذریعہ تحریر یہ ظاہر کرے کہ ہمارا یہ بیان غلط ہے کیونکہ تم تو دجال ہو تو م ہرگز نہیں سمجھو گے اور وہ سمجھ لے گا اور یاد رکھو کہ وہ ہر گرفتم نہیں کھائے گا کیونکہ ہمارے بیان میں سچائی کا نور دیکھے گا اور قرآن کے مطابق پائے گا پس اب بتلا کیا دجال تیرا ہی نام ثابت ہوا یا کسی اور کا حق سے لڑتارہ آخراے مردارد یکھے گا کہ تیرا کیا انجام ہوگا (ضمیمہ انوارالاسلام۔روحانی خزائن جلد ۹صفحہ ۸۵)