حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 226
226 کہ وہ اسی جلسہ میں تین مرتبہ بدیں الفاظ قسم کھائیں کہ اے خدا قادر ذوالجلال جو جھوٹوں کو سزا دیتا اور بچوں کی حمایت کرتا ہے میں تیری ذات کی قسم کھا کر بیان کرتا ہوں کہ جو کچھ دلائل پیش کئے گئے وہ سب باطل ہیں اور تیری ہرگز یہ عادت نہیں کہ عذاب کے وعدوں اور میعادوں میں کسی کی تو بہ یا خائف اور حراساں ہونے سے تاخیر کر دے بلکہ ایسی پیشگوئی سراسر جھوٹ ہے یا شیطانی ہے اور ہرگز تیری طرف سے نہیں۔اور اے قادر خدا اگر تو جانتا ہے کہ میں نے جھوٹ بولا ہے اور حق کے برخلاف کہا ہے تو مجھے ذلت اور دکھ کے عذاب سے ہلاک کر اور جس کی میں نے تکذیب کی ہے اس کو میری ذلت اور میری تباہی اور میری موت دکھا دے اور اس دعا کے ساتھ ہر یک دفعہ ہم آمین کہیں گے اور تین مرتبہ دعا ہوگی اور تین مرتبہ ہی آمین اور بعد اس کے توقف اس قسم کھانے والے کو دوسور و پیہ نقد دیا جائے گا۔“ ( مجموعہ اشتہارات جلد ۲ صفحه ۴۹،۴۸) مولوی سعد اللہ لدھیانوی نے اپنے ایک اشتہار میں لکھا کہ صرف دل میں حق کی عظمت کو ماننا اور اپنے عقائد باطلہ کو غلط سمجھنا کسی طرح عمل خیر نہیں بن سکتا۔یہ مرزا صاحب کا ہی کام ہے کہ اس کا نام رجوع حق رکھتے ہیں۔اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرمایا۔اے احمق دل کے اندھے دجال تو تو ہی ہے جو قرآن کریم کے برخلاف بیان کرتا ہے اور نیز اپنی قدیم بے ایمانی سے ہمارے بیان کو محرف کر کے لکھتا ہے ہم نے کب اور کس وقت کہا جو الیس رجوع جو خوف کے وقت میں ہوا اور پھر انسان اس سے پھر جائے نجات اخروی کیلئے مفید ہے بلکہ ہم تو بار بار کہتے ہیں کہ ایس ارجوع نجات اخروی کے لئے ہرگز مفید نہیں اور ہم نے کب آتھم نجاست خور مشرک کو بہشتی قرار دیا ہے یہ تو سراسر تیرا ہی افترا اور بے ایمانی ہے۔ہم نے تو قرآن کریم کی تعلیم کے