حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 225
225 پھر بھی ان پر پتھر بر سے ہوں یا اور کسی عذاب سے وہ ہلاک کئے گئے ہوں اور اگر کسی کی نظر میں کوئی بھی نظیر ہو تو پیش کرے اور یاد رکھے کہ وہ ہرگز کسی ربانی کتاب سے پیش نہیں کر سکتے گا۔پس ناحق ایک متفق علیہا صداقت سے انکار کر کے اپنے تئیں جہنم کا ایندھن نہ بناویں۔منہ ( مجموعہ اشتہارات جلد ۲ صفحه ۴۰ ح ) فرمایا۔اگر وہ کسی طرح اپنی بے ایمانی اور یاوہ گوئی سے باز نہ آویں تو ہم ان میں سے شیخ محمد حسین بٹالوی اور مولوی عبدالجبار غزنوی ثم امرتسری اور مولوی رشیدہ احمد گنگوہی کو اس فیصلہ کیلئے منتخب کرتے ہیں کہ اگر وہ تینوں یا ان میں سے کوئی ایک ہمارے اس بیان کا منکر ہو اور اس کا یہ دعوی ہو کہ کہ کوئی ایسی الہامی پیشگوئی عذاب موت کیلئے کوئی تاریخ مقر ر کئی گئی ہو اس تاریخ کے بارے میں کدا تعالی کا یہ قانون قدرت قدیمہ نہیں ہے کہ وہ ایسے شخص یا ایسی قوم کی تو بہ یا خائف اور ہراساں ہونے سے جن کی نسبت وہ وعدہ عذاب ہے دوسرے وقت میں جا پڑے تو طریق فیصلہ یہ ہے کہ وہ ایک تاریخ مقرر کر کے جلسہ عام میں اس بارہ میں نصوص صریح کتاب اللہ اور احادیث نبویہ اور کتب سابقہ کی ہم سے سنیں اور صرف دو گھنٹہ تک ہمیں مہلت دیں تا ہم کتاب اور سنت اور پہلی سماوی کتابوں کے دلائل شافیہ اپنی تائید دعوی میں ان کے سامنے پیس کر دیں۔پھر اگر وہ قبول کر لیں تو چاہئے کہ حیا اور شرم کر کے آئندہ ایسی پیشگوئیوں کی تکذیب نہ کریں بلکہ خود مؤید اور مصدق ہو کر دوسرے منکروں کو سمجھاتے رہیں اور خدا تعالی سے درمیں اور قومی کا طریق خا تیار کریں اور اگر ان نصوص اور دلائل سے منکر ہوں اور ان کا یہ خیال ہو کہ یہ دعوی نصوص صریحہ سے ثابت نہیں ہو سکا اور جو دلائل بیان کئے گئے ہیں وہ باطل ہیں تو ہم ان کیلئے دوسور و پیہ نقد کا انعام مقرر کرتے ہیں