حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 199
199 بزرگوں کیلئے شیطان یا کافر کا لفظ استعمال کیا ہو۔اگر کوئی ایسی مثال پیش کر سکیں تو مبلغ یکصد روپیہ بطور تاوان آپ کو ادا کر دوں گا۔چنانچہ آپ نے فرمایا:۔ماسوا اس کے آپ کا وہ پر چہ اشاعت السنتہ موجود ہے۔میں اپنے پر سو روپیہ تاوان قبول کرتا ہوں اگر منصفین اس پر چہ کو پڑھ کر یہ رائے ظاہر کریں کہ آپ نے ان اولیاء کو جنہوں نے ایسا رائے ظاہر کیا تھا کافر اور شیطان ٹھہرایا تھا اور ان کے ملہمات کو شیطانی مخاطبات میں داخل کیا تھا تو میں سور و پیہ داخل کر دوں گا۔آپ اپنے شائع کردہ ریویو کے منشاء سے بھاگنا چاہتے ہیں اور ایک پورانی قوم کی عادت پر تحریفوں پرزور مار رہے ہیں و انی لکم ذالک و لات حین مناص۔الحق مباحثہ لدھیانہ۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۱۲۳) علماء ندوه حضرت مسیح موعود نے علماء ندوہ کو قادیان آ کر اپنے دعوئی کے اثبات میں دلائل سننے کا چیلنج دیتے ہوئے فرمایا:۔اور پھر میرے معجزات اور دیگر نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کے طلب ثبوت کے لئے بعض منتخب علماء ندوہ کے قادیان میں آویں اور مجھ سے معجزات اور دلائل یعنی نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کا ثبوت لیں۔پھر اگر سنت انبیاء علیہم السلام کے مطابق میں نے پورا ثبوت نہ دیا تو میں راضی ہوں گا کہ میری کتابیں جلائی جائیں لیکن اس قدر محنت اٹھانا بڑے باخدا کا کام ہے۔“ تحفہ الندوہ۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۱۰۱) حکیم محمود مرزا ایرانی حکیم محمود مرزا ایرانی کو بالمقابل مضمون نویسی کے مقابلہ کا چیلنج دیتے ہوئے فرمایا:۔