حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 200 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 200

200 آج پر چہ پیسہ اخبار ۲۷ اگست ۱۹۰۴ ء کے پڑھنے سے مجھے معلوم ہوا کہ حکیم مرز امحمود نام ایرانی لاہور میں فروکش ہیں۔وہ بھی ایک مسیحیت کے مدعی کے حامی ہیں۔دعوی کرتے ہیں اور مجھ سے مقابلہ کے خواہشمند ہیں۔میں افسوس کرتا ہوں کہ مجھے اس قدر شدت کم فرصتی ہے کہ میں ان کی اس درخواست کو قبول نہیں کر سکتا کیونکہ کل ہفتہ کے روز جلسہ کا دن ہے جس میں میری مصروفیت ہوگی۔اور اتوار کے دن علی الصباح مجھے گورداسپور میں ایک مقدمہ کیلئے جانا جو عدالت میں دائر ہے ضروری ہے۔میں قریباً بارہ دن سے لاہور میں مقیم ہوں۔اس مدت میں کسی نے مجھ سے ایسی درخواست نہیں کی اب جبکہ میں جانے کو ہوں اور ایک منٹ بھی مجھے کسی اور کام کے لئے فرصت نہیں تو میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس بے وقت کی درخواست سے کیا مطلب اور کیا غرض ہے۔لیکن تاہم میں مرزا محمود صاحب کو تصفیہ کے لئے ایک اور صاف راہ بتلاتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ کل ۳ ستمبر کو جو جلسہ میں میرا مضمون پڑھا جائے گا وہ مضمون ایڈیٹر صاحب پیسہ اخبار اپنے پر چہ میں بتمام و کمال شائع کر دیں۔حکیم صاحب موصوف سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس مضمون کے مقابلہ میں اسی اخبار میں اپنا مضمون شائع کرا دیں۔اور پھر خود پبلک ان دونوں مضمونوں کو پڑھ کر فیصلہ کر لے گی کہ کس شخص کا مضمون راستی اور سچائی اور دلائل قویہ پر مبنی ہے۔اور کس شخص کا مضمون اس مرتبہ سے گرا ہوا ہے۔میری دانست میں یہ طریق فیصلہ ان بدنتائج سے بہت محفوظ ہو گا جو آجکل زیادہ مباحثات سے متوقع ہے۔بلکہ چونکہ اس طرز میں روئے کلام حکیم صاحب کی طرف نہیں اور نہ ان کی نسبت کوئی تذکرہ ہے اس لئے ایسا مضمون ان رنجشوں سے بھی برتر ہو گا جو باہم مباحثات سے کبھی کبھی پیش آ جایا کرتے ہیں۔والسلام منہ الراقم میرزا غلام احمد قادیانی