حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 198
198 گورنمنٹ عالیہ کا دشمن اور بدخواہ ثابت کرے۔تا گورنمنٹ عالیہ انگریزی کو آپ پر بدظن کر سکے۔چنانچہ اس صورتحال کے پیش نظر آپ نے گورنمنٹ کو یہ معلوم کرنے کیلئے کہ در حقیقت گورنمنٹ کا خیر خواہ کون ہے اور بدخواہ کون ہے درج ذیل تجویز پیش کی :۔سو وہ طریق میری دانست میں یہ ہے کہ چند ایسے عقائد جو غلط نہی سے اسلامی عقائد سمجھے گئے ہیں اور ایسے ہیں کہ ان کو جو شخص اپنا عقیدہ بناوے وہ گورنمنٹ کے لئے خطرناک ہے۔ان عقائد کو اس طرح پر آلہ شناخت مخلص و منافق بنایا جائے کہ عرب یعنی مکہ اور مدینہ وغیرہ بلاد اور کابل اور ایران وغیرہ میں شائع کرنے کے لئے عربی اور فارسی میں وہ عقائد ہم دونوں فریق لکھ کر اور چھاپ کر سر کار انگریزی کے حوالہ کریں تا کہ وہ اپنے اطمینان کے موافق شائع کر دے۔اس طریق سے جو شخص منافقانہ طور پر برتاؤ رکھتا ہے اس کی حقیقت کھل جائے گی۔کیونکہ وہ ہرگز ان عقائد کو صفائی سے نہیں لکھے گا اور ان کا اظہار کرنا اس کو موت معلوم ہوگی۔“ (حقیقۃ المہدی۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحہ ۴۴۷) بٹالوی صاحب کے ایک اعتراض کا جواب مولوی محمد حسین بٹالوی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر اعتراض کیا کہ گویا آپ نے مولوی محمد حسین بٹالوی پر یہ الزام لگایا ہے کہ مولوی صاحب کسی ایسے ملہم کو بھی نہیں مانتے ہیں بخاری یا مسلم کی کسی حدیث کو موضوع کہیں۔اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ مولوی صاحب اس سے پہلے چونکہ خود ایسے بزرگوں کو رئیس المتصوفین اور اولیاء اللہ قرار دے چکے ہیں جو بخاری اور مسلم کی بعض احادیث کو موضوع قرار دیتے ہیں اور اپنے رسالہ اشاعۃ السنہ میں کئی بار ایسے بزرگوں کا عقیدت واحترام سے حوالہ دے چکے ہیں اور مولوی صاحب کے رسالہ میں کبھی کوئی ایسا ذکر نہیں ملتا جس میں آپ نے ایسے