حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 194 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 194

194 الد جال کا لفظ جو بخاری اور مسلم میں آیا ہے بجز دجال معہود کے کسی اور دجال کے لئے بھی استعمال کیا گیا ہے تو مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں ایسے شخص کو بھی جس طرح ممکن ہو ہزار روپیہ نقد بطور تاوان دوں گا۔چاہیں تو مجھ سے رجسٹری کرا لیں یا تمسک لکھا لیں۔اس اشتہار کے مخاطب خاص طور پر مولوی محمدحسین صاحب بٹالوی ہیں جنہوں نے غرور اور تکبر کی راہ سے یہ دعویٰ کیا ہے کہ توفی کا لفظ جو قرآن کریم میں حضرت مسیح کی نسبت آیا ہے اس کے معنے پورے لینے کے ہیں یعنی جسم اور روح کو بہ ہیئت کذائی زندہ ہی اٹھالینا اور وجود مرکب جسم اور روح میں سے کوئی حصہ متروک نہ چھوڑ نا بلکہ سب کو بحیثیت کذائی اپنے قبضہ میں زندہ اور صحیح سلامت لے لینا۔سواسی معنی سے انکار کر کے یہ شرطی اشتہار ہے۔ایسا ہی محض نفسانیت اور عدم واقفیت کی راہ سے مولوی محمد حسین صاحب نے اکد جال کے لفظ کی نسبت جو بخاری اور مسلم میں جابجا دجال معہود کا ایک نام ٹھہرایا گیا ہے یہ دعویٰ کر دیا ہے کہ الہ جال دجال معہود کا خاص طور پر نام نہیں بلکہ ان کتابوں میں یہ لفظ دوسرے دجالوں کے لئے بھی مستعمل ہے اور اس دعوی کے وقت اپنی حدیث دانی کا بھی ایک لمبا چوڑا دعویٰ کیا ہے۔سو اس وسیع معنی الد جال سے انکار کر کے اور یہ دعوی کر کے کہ لفظ الد بال کا صارف دجال معہود کے لئے آیا ہے اور بطور علم کے اس کے لئے مقرر ہو گیا ہے۔یہ شرطی اشتہار جاری کیا گیا ہے۔مولوی محمد حسین صاحب اور ان کے ہم خیال علماء نے لفظ توفی اور الہ جال کی نسبت اپنے دعوی متذکرہ بالا کو بپایہ ثبوت پہنچا دیا تو وہ ہزار روپیہ لینے کے مستحق ٹھہریں گے اور نیز عام طور پر یہ عاجز یہ اقرار بھی چند اخباروں میں شائع کر دے گا کہ در حقیقت مولوی محمد حسین صاحب اور ان کے ہم خیال فاضل اور واقعی طور پر محدث اور مفسر اور رموز اور