حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 152 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 152

152 کیونکر سمجھا جائے کہ اگر کوئی دوسرا شخص افتراء کرے تو وہ بھی ہلاک کیا جائے گا۔جواب گو کہ اس آیت میں مدلول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں مگر دلیل کی قوت چونکہ عام ہوتی ہے اس لئے ہر وہ شخص جو بناوٹ سے خدا کی طرف جھوٹا الہام منسوب کرے وہ لمبی مہلت نہیں پا سکتا۔بلکہ جلد ہلاک ہو جاتا ہے۔قرآن کریم کی بعض دیگر آیات سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ یہاں پر افتراء کرنے ولا ہر شخص مراد ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ ایک موقعہ پر فرماتا ہے کہ قــد خـاب من افترای (طه: ۶۲) یعنی مفتری نامراد مرے گا۔اور پھر دوسری جگہ فرماتا ہے:۔وَ مَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِآيَاتِهِ (الانعام :۲۲) یعنی اس شخص سے ظالم ترکون ہے جو خدا پر افترا کرتا ہے یا خدا کی آیتوں کی تکذیب کرتا ہے۔پس قرآن کریم کی بیسیوں آیات سے یہ ثابت ہے کہ مفتری علی اللہ کو سزا دینے اور جلد ہلاک کرنے والا قاعدہ عام ہے نہ کہ یہ حکم صرف آنحضرت صلی اللہ علی وسلم کیلئے خاص ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس اعتراض کے جواب میں فرماتے ہیں۔خدا تعالیٰ کا یہ قول محل استدلال پر ہے اور منجملہ دلائل صدق نبوت کے یہ بھی ایک دلیل ہے اور خدا تعالیٰ کے قول کی تصدیق تبھی ہوتی ہے کہ جھوٹا دعوی کرنے والا ہلاک ہو جائے ورنہ یہ قول منکر پر کچھ حجت نہیں ہوسکتا اور نہ اس کیلئے بطور دلیل ٹھہر سکتا ہے بلکہ وہ یہ کہہ سکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تئیس برس تک ہلاک نہ ہونا اس وجہ سے نہیں کہ وہ صادق ہے بلکہ اس وجہ سے ہے کہ خدا پر افتراء کرنا ایسا گناہ نہیں ہے جس سے خدا اسی دنیا میں کسی کو ہلاک کرے کیونکہ اگر یہ کوئی گناہ ہوتا اور سنت اللہ اس پر جاری ہوتی کہ مفتری کو اسی دنیا میں سزا دینا چاہیئے تو اس کیلئے نظیر یں ہونی