حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 153 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 153

153 چاہئے تھیں۔اور تم قبول کرتے ہو کہ اس کی کوئی نظیر نہیں بلکہ بہت سی ایسی نظیریں موجود ہیں کہ لوگوں نے تئیس برس تک بلکہ اس سے زیادہ خدا پر افتراء کئے اور ہلاک نہ ہوئے تو اب بتلاؤ کہ اس اعتراض کا جواب کیا ہوگا ؟“ اربعین نمبر ۴ روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۴۳۴، ۴۳۵) اعتراض بعض لوگ اس چیلنج کے جواب میں کہہ دیا کرتے ہیں کہ قرآن مجید کی آیت قُلُ إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ مَتَاعٌ فِي الدُّنْيَا “ سے معلوم ہوتا ہے کہ مفتری کو دنیا میں فائدہ ہے۔یعنی اس کو لمبی مہلت ملتی ہے (محمدیہ پاکٹ بک صفحہ ۲۱۷ طبع پنجم مئی ۱۹۷۱ء) جواب مَتَاعٌ فِي الدُّنْیا سے مراد بھی مہلت نہیں بلکہ تھوڑی مہلت ہے جیسا کہ ایک دوسری آیت سے ظاہر ہے۔فرمایا: "إِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ مَتَاعٌ قَلِيلٌ وَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ (النحل ركوع :١٥) اس آیت کا ترجمہ خود مولف محمدیہ پاکٹ بک صفحہ ۲۷۲ پر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :۔تحقیق مفتری نجات نہیں پائیں گے۔انہیں نفع تھوڑا ہے اور عذاب دردناک“ غرضیکہ قرآن کریم نے مفتری کیلئے لمبی مہلت کہیں بھی بیان نہیں فرمائی جو تئیس سال تک دراز ہو جائے۔ہاں تھوڑی مہلت جو ہماری بیان کردہ مہلت سے کم ہو تو اس سے ہمیں انکار نہیں۔اگر کسی مفتری کو اتنی لمبی مہلت ملے جتنی آنحضرت ﷺ کو ملی تو آیت لو تقول “ کی دلیل باطل قرار پائے گی۔