حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 148
148 تاریخ ابن خلدون مولفہ علامہ عبدالرحمن بن خلدون جلد ۶ صفحه ۲۰۷) یعنی اس نے خیال کیا کہ وہ مہدی جو آخری زمانہ میں ظاہر ہونے والا تھا وہ میں ہوں۔مگر اس نے کبھی کوئی الہام پیش نہیں کیا۔۳۔اس نے اپنے دعوئی مہدویت کا بھی اعلان کبھی نہیں کیا۔بلکہ اس کو مخفی رکھتا تھا۔چنانچہ مقدمہ ابن خلدون میں لکھا ہے۔و اوصی (صالح بن طريف بدينه الى ابنه الياس و عهد اليه بمولاة صاحب الاندلس من بني امية و باظهار دینه اذا قوی امرهم و قام بامره بعد ابنه الياس و لم يزل مظهرا للاسلام مشرا لما اوصاه به ابوه من كلمة كفرهم۔(تاریخ ابن خلدون جلد ۷ صفحه ۲۰۷) یعنی صالح بن طریف نے اپنے دین کی اپنے بیٹے کو وصیت کی اور کہا کہ اندلس کے حاکم سے دوستی رکھنا اور جب تمہاری حکومت مضبوط ہو جائے تو اس دین کا ظاہر کرنا۔چنانچہ اس کے بعد اس کا بیٹا الیاس والی ہوا اور وہ ہمیشہ اسلام کو ظاہر کرتا رہا اور باپ کے وصیت کردہ مذہب کو چھپا تا رہا۔گویا صالح بن طریف نے اس دعویٰ کو عام پبلک میں بیان نہیں کیا بلکہ ہمیشہ اخفاء سے کام لیتا رہا اور اسی اخفاء کی حالت میں مر گیا اور پھر اس کے بیٹے نے بھی اس کا اظہار نہیں کیا بلکہ وہ سب اسلام کا ہی اظہار کرتے رہے پس صالح بن طریف کو بطور نظیر پیش کرنا درست نہیں۔۵- عبید اللہ بن مهدی 1۔عبید اللہ بن مہدی نے بھی نبوت کا دعوی نہیں کیا۔کیا۔۲۔اس کا کوئی الہام ثابت نہیں۔