حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 102
102 آپ کو دیا ہے حضرت اقدس کا مقابلہ کریں تا حق و باطل میں فیصلہ کی ایک کھلی کھلی راہ پیدا ہو جائے۔اگر آپ نے اس میں پس و پیش کیا تو تفسیر نویسی کے مقابلہ کو چھوڑ کر ادھر ادھر کی غیر متعلق باتوں سے کام لیا یا ہماری گزارش کا کوئی جواب ہی نہ دیا تو ظاہر ہو جائے گا کہ آپ کا منشاء ابطال باطل اور احقاق حق نہیں بلکہ آپ مخلوق کو دھوکہ دینا اور صداقت کا خون کرنا چاہتے ہیں۔یہ خط ایک غیر احمدی دوست میاں عبدالرحیم صاحب داروغہ مارکیٹ لے کر پیر صاحب کے پاس گئے۔ظہر کا وقت تھا۔پیر صاحب نے فرمایا۔عصر کے بعد جواب دیں گے۔داروغہ صاحب عصر کے بعد گئے تو مریدوں نے پیر صاحب کو ملنے ہی نہ دیا۔جماعت کے احباب نے ۲۶ /اگست ۱۹۰۰ء کو ایک رجسٹری چٹھی پیر صاحب کی خدمت میں اسی مضمون پر مشتمل بھیجی مگر پیر صاحب نے اسے وصول ہی نہ کیا۔اس پر جماعت کی طرف سے ۲۷ اگست ۱۹۰۰ ء کو ایک اشتہار اس مضمون کا نکلا کہ اب تک نہ تو پیر صاحب نے حضرت اقدس کی شرائط منظور کی ہیں اور نہ کوئی تار حضرت صاحب کو دیا ہے۔اور نہ کوئی اشتہار اپنی منظوری کا حضرت اقدس تک پہنچایا ہے۔یہ جو کچھ مشہور کیا جارہا ہے بالکل غلط اور جھوٹ ہے لیکن افسوس کہ پیر صاحب نے اس اشتہار کا بھی کوئی جواب نہ دیا۔اس اثناء میں حضرت اقدس کا ۲۵ اگست ۱۹۰۰ ء والا اشتہار بھی لاہور پہنچ گیا جو فوراً شائع کر دیا گیا۔مگر اس پر بھی پیر صاحب تفسیر نویسی میں مقابلہ کیلئے تیار نہیں ہوئے اور ان کے مرید اشتعال پھیلانے اور نا واقفوں کو مغالطہ دینے کی کوششوں میں برابر مصروف رہے۔حضرت اقدس کی آخری اتمام حجت حضرت اقدس نے آخری اتمام حجت کے طور پر ۲۸ اگست ۱۹۰۰ء کو ایک اور اشتہار شائع فرمایا جس میں لکھا کہ اول تو پیر صاحب کو تفسیر نویسی کے مقابلہ میں آنا چاہئے لیکن اگر وہ ایسے مقابلہ کی جرات نہ کر سکتے ہوں تو میں انہیں آخری اتمام حجت کے طور پر ایک اور طریق فیصلہ کی