حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 103
103 طرف بلاتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ:۔” مجھے معلوم ہوا ہے کہ لاہور کے گلی کوچے میں پیر صاحب کے مرید اور ہم مشرب شہرت دے رہے ہیں کہ پیر صاحب تو بالمقابل تفسیر لکھنے کے لئے لاہور میں پہنچ گئے تھے مگر مرزا بھاگ گیا اور نہیں آیا۔اس لئے پھر عام لوگوں کو اطلاع دی جاتی ہے کہ تمام باتیں خلاف واقعہ ہیں جبکہ خود پیر صاحب بھاگ گئے ہیں اور بالمقابل تفسیر لکھنا منظور نہیں کیا اور نہ ان میں یہ مادہ اور نہ خدا کی طرف سے تائید ہے اور میں بہر حال لاہور پہنچ جاتا مگر میں نے سنا ہے کہ اکثر پشاور کے جاہل سرحدی پیر صاحب کے ساتھ ہیں اور ایسا ہی لاہور کے اکثر سفلہ اور کمینہ طبع لوگ گلی کوچوں میں مستوں کی طرح گالیاں دیتے پھرتے ہیں اور نیز مخالف مولوی بڑے جوش سے وعظ کر رہے ہیں کہ یہ شخص واجب القتل ہے تو اس صورت میں لاہور میں جانا بغیر کسی احسن انتظام کے کس طرح مناسب ہے۔۔۔۔پھر بھی اگر پیر صاحب نے اپنی نیت کو درست کر لیا ہے اور سید ھے طور پر بغیر زیادہ کرنے کسی شرط کے وہ میرے مقابل میں عربی میں تفسیر لکھنے کے لئے طیار ہو گئے ہیں تو میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں بہر حال اس مقابلے کے لئے جو محض بالمقابل عربی تفسیر لکھنے میں ہو گا، لاہور میں اپنے تئیں پہنچاؤں گا۔صرف دو امر کا خواہشمند ہوں جن پر لاہور میں میرا پہنچنا موقوف ہے۔ا۔اوّل یہ کہ پیر صاحب سیدھی اور صاف عبارت میں بغیر کسی بیچ ڈالنے یا زیادہ شرط لکھنے کے اس مضمون کا اشتہار اپنے نام پر شائع کر دیں جس پر پانچ لاہور کے معزز اور مشہور ارکان کے دستخط بھی ہوں کہ میں نے قبول کر لیا ہے کہ میں بالمقابل مرزا غلام احمد قادیانی کے عربی فصیح بلیغ میں تفسیر قرآن شریف لکھوں گا۔۔۔۔اور چونکہ