حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 101
101 ہے اور حضرت اقدس عقاید میں بحث بوجوہ مندرجہ بالا منظور نہیں کریں گے اور بجائے تفسیر نویسی میں مقابلہ کرنے کے عقائد کی بحث کے لئے جس کو آپ ترک کر چکے ہیں ، لاہور میں ہر گز نہیں آئیں گے۔اس کے باوجود انہوں نے ۲۱ اگست کو یہ اشتہار دیا اور یہ انتظار کئے بغیر کہ حضرت اقدس کی طرف سے اس کا کیا جواب دیا جاتا ہے دو تین روز بعد ہی اپنے مریدوں کی ایک بڑی جمعیت لے کر ۲۴ اگست بروز جمعہ لاہور آ پہنچے اور حضرت اقدس کو عقاید کے بارہ میں بحث کرنے کا چیلنج کرنے لگے۔لاہور کے احمدیوں نے جب دیکھا کہ یہ لوگ غلط جھوٹا پراپیگنڈا کر کے لوگوں کو دھوکہ دے کر مشتعل کر رہے ہیں تو انہوں نے بھی ۲۴ اگست ۱۹۰۰ء کو انکشاف حقیقت کیلئے ایک اشتہار شائع کیا جس میں لکھا کہ اگر :۔” پیر صاحب نے حضرت مرزا صاحب کی دعوت مقابلہ اور ان کی شرائط کو منظور کر لیا ہے تو کیوں خود جناب پیر صاحب سے (ان کے مرید ) صاف الفاظ میں یہ اشتہار نہیں دلواتے کہ ہمیں حضرت مرزا صاحب کے اشتہار کے مطابق بلا کمی بیشی تفسیر القرآن میں مقابلہ منظور ہے۔“ ( تاریخ احمدیت جلد سوم صفحه ۱۴۲،۱۴۱) لاہور کے بعض احمد یوں کی طرف سے پیر صاحب کو ایک خط جب اس اشتہار کا بھی پیر صاحب اور ان کے مریدوں نے کوئی جواب نہ دیا تو اگلے روز ۲۵ راگست ۱۹۰۰ء کو حضرت حکیم فضل الہی صاحب اور حضرت میاں معراج دین صاحب عمر نے پیر صاحب کو ایک خط لکھا جس کا مفہوم یہ تھا کہ آپ صاف صاف اور کھلے لفظوں میں لکھیں کہ حضرت اقدس مرزا صاحب نے ۲۰ فروری ۱۹۰۰ء کے اشتہار میں جو تفسیر نویسی میں مقابلہ کرنے کیلئے چیلنج دیا ہے آپ اس مقابلہ کے لئے تیار ہیں اور ہم آپ کو ہزار بار خدا کی قسم دے کر بہ ادب عرض کرتے ہیں کہ آپ اس چیلنج کے مطابق جو حضرت اقدس نے تفسیر نویسی میں مقابلہ کیلئے