چالیس جواہر پارے — Page 28
28 آسکتا اور میری یہ مسجد آخری مسجد ہے جس کے بعد کوئی اور مسجد میری مسجد کے مقابل پر نہیں بن سکتی اور اگر غور کیا جائے تو آنحضرت علی علیم کی ارفع شان بھی اس بات میں نہیں ہے کہ آپ کو گزشتہ جاری شدہ نعمتوں کا بند کرنے والا قرار دیا جائے بلکہ آپ کی شان اس بات میں ہے کہ الگ الگ نہروں کو بند کر کے آئندہ تمام نہریں آپ کے وسیع دریا سے نکالی جائیں۔یہی وہ لطیف تشریح ہے جو اسلام کے چوٹی کے علماء اور بڑے بڑے مجدد ہر زمانہ میں کرتے آئے ہیں۔چنانچہ صوفیاء کے سردار اور امام حضرت شیخ اکبر محي الدين ابن عربی ( ولادت ۵۶۰ھ وفات ۶۳۸ھ) فرماتے ہیں۔النُّبُوَّةُ الَّتِي انْقَطَعَتْ بِوُجُودِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا هِيَ نُبُوَّةُ التشريع فتوحات مکیه ، باب الثالث والسبعون في معرفة عدد ما يحمل من الاسرار جلد 2 صفحه 6) سة یعنی وہ نبوت جس کا دروازہ آنحضرت صلی اللی کام کے وجود سے بند ہو گیا ہے وہ صرف شریعت والی نبوت ہے۔“ حضرت امام عبد الوہاب شعرانی (وفات ۹۷۶ھ) جو ایک بڑے امام مانے گئے ہیں فرماتے ہیں۔إن مطلق النبوة لم يَرْتَفِعُ وَإِنَّمَا ارْتَفَعَ نُبُوهُ التَّصْرِيح الیواقیت والجواہر ، المبحث ثالث و ثلاثون فى بيان بداية النبوة ، جلد اوّل صفحہ 346)