چالیس جواہر پارے

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 27 of 178

چالیس جواہر پارے — Page 27

27 یہ الفاظ زیادہ فرمائے ہیں کہ مَسْجِدِى هذا آخِرُ الْمَسَاجِدِ یعنی ”میری یہ (مدینہ والی) مسجد آخری مسجد ہے۔اب ظاہر ہے کہ ان الفاظ کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہو سکتا اور نہ ہی واقعات اس کی تائید کرتے ہیں کہ آئندہ دنیا میں کوئی اور مسجد بنے گی ہی نہیں بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ آئندہ کوئی مسجد میری مسجد کے مقابل پر نہیں بنے گی بلکہ جو مسجد بھی بنے گی وہ میری اس مسجد کے تابع اور اس کی نقل اور ظل ہو گی۔ن الله اسی طرح إِنِّي آخِرُ الأَنْبِيَاءِ ( میں آخری نبی ہوں) کے بھی یہی معنی ہیں کہ آئندہ کوئی ایسا نبی نہیں آسکتا جو میری غلامی سے آزاد ہو کر میری نبوت کے مقابل پر کھڑا ہو اور میرے دین کو چھوڑ کر کوئی نیا دین لائے بلکہ اگر کوئی آئے گا تو میر اخادم اور میر اشاگرد اور میرا تابع اور میر اظل اور گویا میرے وجود کا حصہ ہو کر آئے گا اور یہی وہ گہر ا فلسفہ ہے جو ایک قرآنی آیت میں آنحضرت صلی للی نیم کا نام خاتم النبيين (نبیوں کی مہر ) رکھ کر بیان کیا گیا ہے۔خوب غور کرو کہ اگر آنحضرت صلی علم کی مدینہ والی مسجد کے بعد اسلامی ممالک میں کروڑوں مسجدوں کی تعمیر کے باوجود مَسْجِدِى هذا آخِرُ الْمَسَاجِدِ ( یعنی میری یہ مسجد آخری مسجد ہے) کا مفہوم قائم رہتا ہے تو آنحضرت صلی اللہ ظلم کی امت میں آپ کے کسی خادم اور شاگرد اور تابع کا آپ کی اتباع اور غلامی میں نبوت کا انعام پانا کس طرح ختم نبوت يا إِنِّي آخِرُ الأَنْبِيَاءِ (یعنی میں آخری نبی ہوں) کے منشاء کے خلاف قرار دیا جاسکتا ہے؟ پس یقینا اس حدیث کا یہی مطلب ہے کہ میں خدا کا آخری صاحب شریعت نبی ہوں جس کے بعد کوئی نبی میری غلامی کے جوئے سے آزاد ہو کر اور میرے دین کو چھوڑ کر نہیں