چالیس جواہر پارے — Page 114
114 کی عور تیں زینت کے لباس پہن کر بازاروں میں نکل آئیں۔کیا یہ سب کچھ مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمُ کی بدترین مثال نہیں ؟ فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَار بے شک یہ درست ہے کہ ایک فی الواقع اچھی اور مفید چیز کو اچھے رنگ میں لے لینے میں کوئی ہرج نہیں۔چنانچہ خود ہمارے آقا محمد صلی اللہ یکم فرماتے ہیں کہ الكَلِمَةُ الْحِكْمَة ضَالَةُ الْمُؤْمِن عَيْها وَجَدَهَا فَهُوَ أَحَقُ بها یعنی حکمت اور خوبی کی بات مومن کی اپنی ہی کھوئی ہوئی چیز ہوتی ہے۔اسے چاہیے کہ جہاں بھی ایسی چیز پائے اسے لے لے کیونکہ وہ اس کی اپنی ہی چیز ہے۔مگر اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ ہر رطب و یابس چیز کو اندھے طور پر اختیار کرناشروع کر دیا جائے بلکہ کسی چیز کے اختیار کرنے کے لئے دو شرطیں ضروری ہیں۔(۱) ایک یہ کہ وہ فی الواقع اچھی ہو اور اسلامی تعلیم اور اسلامی شعار کے خلاف نہ ہو۔(۲) دوسرے یہ کہ اسے غلامانہ ذہنیت کے ساتھ اندھے طریق پر اختیار نہ کیا جائے بلکہ پر کھ کر اور کھوٹا کھر ادیکھ کر علی وجہ البصیرت لیا جائے۔1 : ابن ماجہ کتاب الزھد باب الحكمة