چالیس جواہر پارے

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 86 of 178

چالیس جواہر پارے — Page 86

86 فرماتے ہیں کہ وہ جنت میں میرے اس قدر قریب ہو گا جس طرح ایک ہاتھ کی دو انگلیاں ایک دوسرے کے قریب ہوتی ہیں۔اس تاکیدی حکم کے بعد جس کے ساتھ ایک غیر معمولی انعام بھی وابستہ ہے کوئی سچا مسلمان یتیموں کی پرورش اور حفاظت کی طرف سے غافل نہیں ہو سکتا۔یتیموں کی نگہداشت میں صرف بے بس اور بے سہارا بچوں کی حفاظت اور تربیت کا پہلو ہی مقصود نہیں ہے بلکہ اگر غور کیا جائے تو اس ذریعہ سے قوم کے افراد میں ترقی کی روح بھی ترقی کرتی ہے۔جس قوم کے افراد اس بات کا یقین رکھتے ہوں کہ اگر وہ قومی خدمت بجالاتے ہوئے فوت ہو گئے تو ان کے پیچھے ان کی یتیم اولاد بے بس اور بے سہارا نہیں رہ جائے گی بلکہ ان کے رشتہ دار اور قوم کے دوسرے افراد ان کے یتیم بچوں کے پوری طرح کفیل ہوں گے تو وہ لاز ماہر قربانی کے لئے جرات کے ساتھ قدم اٹھائیں گے اور اس طرح قوم کے افراد میں قومی خدمت اور قربانی کی روح ترقی کرے گی۔پس یتیموں کی حفاظت کا انتظام صرف نابالغ بچوں کو روحانی اور اخلاقی اور مالی تباہی سے بچانے کا ذریعہ ہی نہیں ہے بلکہ قوم کی مجموعی ترقی اور قوم میں قربانی کی روح کو فروغ دینے کا بھی بھاری ذریعہ ہے۔مگر افسوس ہے کہ آج کل مسلمانوں میں اس مقدس فریضہ کی طرف سے سخت غفلت برتی جاتی ہے۔بسا اوقات قریبی رشتہ دار یتیموں کے محافظ بننے کی بجائے ان کے اموال کو لوٹنے اور انہیں غفلت کی حالت میں چھوڑ کر تعلیمی اور تربیتی لحاظ سے تباہ کرنے کا باعث بن جاتے ہیں اور جو یتیم خانے مختلف اداروں کی طرف سے قائم ہیں ان میں عموماً یتیموں کے جذبات خود داری اور عزت نفس کو بری طرح کچلا جاتا ہے اور یتیم بچے بھک منگے فقیر بن کر رہ جاتے ہیں۔