چالیس جواہر پارے

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 84 of 178

چالیس جواہر پارے — Page 84

84 دوسری حکمت اس میں یہ ہے کہ اسلام میں بندوں کے حقوق بھی خدا ہی کی طرف سے مقرر شدہ ہیں اور شریعت نے حقوق العباد کو انتہائی اہمیت دی حتی کہ ایک حدیث میں آتا ہے کہ خدا اپنے حقوق سے تعلق رکھنے والے گناہ تو معاف کر دیتا ہے مگر بندوں کے حقوق سے تعلق رکھنے والے گناہ اس وقت تک معاف نہیں کرتا جب تک کہ خود بندے معاف نہ کریں۔انہی دو حکمتوں کی بناء پر آنحضرت صل للہ یکم فرماتے ہیں اور خدا کی قسم کھا کر بڑے زور دار الفاظ میں فرماتے ہیں کہ کوئی عورت اس وقت تک خدا کے حقوق ادا کرنے والی نہیں سمجھی جاسکتی جب تک کہ وہ اپنے خاوند کے حقوق ادانہ کرے اور پھر ان الفاظ میں یہ بھی اشارہ ہے کہ اس عورت پر خداراضی نہیں ہو تا جو اپنے خاوند کے حقوق ادا نہیں کرتی۔باقی رہا یہ سوال کہ بیوی پر خاوند کا حق کیا ہے۔سو اس کے متعلق قرآن شریف اور حدیث سے پتہ لگتا ہے کہ بیوی پر خاوند کا حق یہ ہے کہ وہ اس کی فرمانبر دار ہو۔اس کا واجبی ادب ملحوظ رکھے۔اس سے محبت کرے۔اس کی وفادار رہے۔اس کی اولاد کی تربیت کا خیال رکھے۔اس کے مال کی حفاظت کرے اور جہاں تک ممکن ہو اس کی خدمت بجالائے۔اس کے مقابل پر خاوند پر بیوی کا حق یہ ہے کہ وہ اس کے ساتھ محبت اور شفقت اور دلداری سے پیش آئے۔اس کے آرام کا خیال رکھے۔اس کے جذبات کا احترام کرے اور اپنی حیثیت کے مطابق اس کے ضروری اخراجات کا کفیل ہو۔اب ہر شخص خود سوچ سکتا ہے کہ اگر مرد اور عورت ایک دوسرے کے متعلق ان حقوق کا خیال رکھیں تو مسلمانوں کے گھروں کو جنت بننے میں کیا کسر رہ جاتی ہے؟