چالیس جواہر پارے

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 48 of 178

چالیس جواہر پارے — Page 48

48 میں بیان ہوئے ہیں اس اخوت کے بلند معیار کی وضاحت فرمائی۔آپ فرماتے ہیں اور کس شان کے ساتھ خدا کی قسم کھا کر فرماتے ہیں کہ مومنوں کی اخوت کا حقیقی معیار یہ ہے کہ جو بات ایک مسلمان اپنے لئے پسند کرتا ہے وہی اپنے بھائی کے لئے بھی پسند کرے۔ان مختصر الفاظ کے ذریعہ آپ نے گویا مسلمانوں میں ہر قسم کی دوئی اور غیریت کی جڑھ کاٹ کر انہیں بالکل ایک جان کر دیا ہے مگر افسوس ہے کہ آج کل اکثر لوگ نفسا نفسی کی مرض میں مقبلا ہو کر اپنے واسطے ہر خیر کو جمع کرنے اور دوسروں کو ہر خیر سے محروم کرنے کے درپے رہتے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جن کے متعلق قرآن شریف فرماتا ہے کہ وَيْلٌ لِّلْمُطَفِّفِينَ الَّذِينَ إِذَا اكْتَالُوا عَلَى النَّاسِ يَسْتَوْفُونَ وَإِذَا كَالُوهُمْ أَوْ وَزَنُوهُمْ يُخْسِرُونَ أَلَا يَظُنُّ أُوْلَئِكَ أَنَّهُمْ مَبْعُوثُونَ یعنی دوسروں کا حق مارنے والے لوگوں پر افسوس ہے کہ جب وہ دوسروں سے اپنا حق وصول کرتے ہیں تو خوب بڑھا چڑھا کر لیتے ہیں لیکن جب خود دوسروں کا حق دینے لگتے ہیں تو اپنا ناپ کم کر دیتے ہیں ؟ کیا یہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ وہ خدا کے سامنے کبھی پیش نہیں کئے جائیں گے ؟“ اسلام اس نفسا نفسی کی مرض کو جڑھ سے کاٹ کر حکم دیتا ہے کہ سچے مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ جو کچھ اپنے لئے پسند کرتے ہیں وہی اپنے بھائی کے لئے بھی پسند کریں۔1 : المطففين: 2 تا 5