چالیس جواہر پارے

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 20 of 178

چالیس جواہر پارے — Page 20

20 دعائیں کرنا اور پھر واپسی پر مزدلفہ میں قیام کر کے عبادت بجالانا اور بالآخر مکہ سے تین میل پر منی کے مقام میں قربانی دینا ہے۔حج جو ماہ ذوالحجہ کی آٹھویں اور نویں اور دسویں تاریخوں میں ہوتا ہے صرف ایک مقدس ترین جگہ کی زیارت ہی نہیں جس کے ساتھ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کی قربانی اور پھر خود آنحضرت صلی للی کم کی ابتدائی قربانی کی مقدس روایات وابستہ ہیں بلکہ حج مختلف ملکوں اور مختلف قوموں کے مسلمانوں کے آپس میں ملنے اور تعارف پیدا کرنے اور ایک دوسرے سے ملی معاملات میں مشورہ کرنے کا بے نظیر موقع بھی مہیا کرتا ہے۔حج ساری عمر میں صرف ایک دفعہ بجالا نا فرض ہے اور جیسا کہ دوسری حدیث میں صراحت آئی ہے اس کے لئے صحت اور واجبی خرچ اور راستہ میں امن کا ہوناضروری شرط ہے۔(۴) چوتھی عملی عبادت رمضان کے روزے ہیں۔یہ روزے ہر ایسے مسلمان پر جو بلوغ کی عمر کو پہنچ چکا ہو اور بیمار یا مسافر نہ ہو، فرض کئے گئے ہیں۔بیمار یا مسافر کو دوسرے ایام میں گفتی پوری کرنی پڑتی ہے۔روزہ کے لئے عربی میں صوم کا لفظ استعمال ہوتا ہے جس کے معنی اپنے نفس کو روکنے کے ہیں۔یہ عبادت رمضان کے مہینہ میں جو قمری حساب کے مطابق سال کے مختلف موسموں میں چکر لگاتا ہے ادا کی جاتی ہے اور صبح صادق سے قبل سحری کا کھانا کھا کر غروب آفتاب تک کھانے پینے اور بیوی کے ساتھ اختلاط کرنے سے پر ہیز کیا جاتا ہے۔گویا روزوں میں مسلمانوں کی طرف سے زبانِ حال سے اپنی ذات اور اپنی نسل کی قربانی کا نمونہ پیش کیا جاتا ہے۔روزے نفس کو پاک کرنے اور مشقت کا عادی بنانے کے علاوہ غریبوں کی غربت کا احساس پیدا