چالیس جواہر پارے

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 5 of 178

چالیس جواہر پارے — Page 5

یہ کتاب صحاح ستہ میں چھٹے یعنی آخری نمبر پر سمجھی جاتی ہے۔سنن ابن ماجہ بھی حقیقتاً ایک عمدہ کتاب ہے۔ان جمله محدثین نے صحیح حدیثوں کی تلاش اور چھان بین میں اپنی عمریں خرچ کر کے لاکھوں حدیثوں کے ذخیرہ میں سے اپنے مجموعوں کا انتخاب تیار کیا ہے۔لاریب تمام عالم اسلامی کو ان بزرگوں کا دلی شکر گزار ہونا چاہیے۔وجزاھم اللہ احسن الجزاء اوپر کی چھ مشہور کتابوں کے علاوہ حدیث کی مندرجہ ذیل دو کتابیں بھی بہت مشہور (۱) موطا مرتبہ امام مالک ابن انس المدنی ( ولادت ۹۵ھ وفات ۱۷۹ھ) امام مالک حدیث کے امام ہونے کے علاوہ فقہ کے بھی امام سمجھے جاتے ہیں یعنی وہ فقہ کے ان چار مشہور اماموں میں سے ہیں جنہیں مسلمانوں کا بیشتر حصہ فقہی امور میں قابل تقلید خیال کرتا ہے۔امام مالک کی فقہ پر عمل کرنے والے مسلمان مالکی کہلاتے ہیں۔آنحضرت صل اللی علم کے قریب ترین زمانہ میں پیدا ہونے اور پھر خاص شہر مدینہ میں تربیت پانے کی وجہ سے امام مالک کا مقام بھی بہت بلند سمجھا جاتا ہے اور حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی مجدد صدی دوازدہم نے تو ان کی کتاب موطا کا درجہ اپنے ذوق کے مطابق صحیح بخاری سے بھی بالا قرار دیا ہے لیکن اس میں شک نہیں کہ موطا ایک بہت بلند پایہ کتاب ہے۔(۲) مسند احمد: مرتبه امام احمد بن حنبل البغدادی ( ولادت ۱۶۴ ھ وفات ۲۴۲ھ)