چالیس جواہر پارے

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 103 of 178

چالیس جواہر پارے — Page 103

103 پانچویں بات یتیم کا مال کھانا بیان کی گئی ہے۔یہ گناہ بھی خاندانوں اور قوموں کو تباہ کر کے رکھ دیتا ہے کیونکہ اس کے نتیجہ میں ایک تو قوم کے نو نہال تباہ ہو جاتے ہیں۔دوسرے ہمدردی کا جذبہ متا اور بد دیانتی کا جذبہ ترقی کرتا ہے۔تیسرے کمزور جنس پر ظلم کا رستہ کھلتا ہے اور چوتھے قوم میں سے قربانی کی روح بھی مٹنی شروع ہو جاتی ہے۔یقینا اس قوم کے افراد کبھی بھی جرات کے ساتھ قربانی کی طرف قدم نہیں اٹھا سکتے جن کی آنکھوں کے سامنے یتیموں کے لٹنے اور برباد ہونے کے نظارے پیش آتے رہیں کیونکہ اس صورت میں طبعاً ان کے اندر یہ ڈر پیدا ہو گا کہ ہمارے مرنے کے بعد ہمارے یتیم بچوں کے ساتھ بھی یہی سلوک ہو گا۔پس یتیموں کی ہمدردی اور یتیموں کے مال کی حفاظت اسلام میں ایک نہایت اہم ذمہ داری قرار دی گئی ہے اور قرآن شریف نے اس پر انتہائی زور دیا ہے۔چھٹی بات لڑائی کے میدان میں دشمن کو پیٹھ دکھانا ہے۔یہ کمزوری بھی قوموں کی تباہی میں بھاری اثر رکھتی ہے۔حق یہ ہے کہ کوئی بزدل قوم زندہ رہنے کے قابل نہیں ہوتی اور بڑی آسانی سے ظالم اور جابر قوموں کا شکار ہو جاتی ہے اس لئے اسلام نے میدان جنگ میں پیٹھ دکھانے اور بھاگنے کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا ہے۔چنانچہ قرآن شریف فرماتا ہے۔يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا لَقِيْتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا حُفَّا فَلَا تُوَلُوهُمُ الْأَدْبَارَ وَمَن تُوَلِّهِمْ يَومين دارَ الَّا مُتَحَرَّ فَالْقِتَالٍ أَوْ مُتَحَيْرًا إِلَى فِقَةٍ