چالیس جواہر پارے

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 95 of 178

چالیس جواہر پارے — Page 95

95 تشریح: آنحضرت صلی علیکم کا یہ مبارک ارشاد ابتدائی جنگوں میں صحابہ اور ان کے بعد آنے والے مسلمانوں کا طرہ امتیاز رہا ہے۔اسلام نے کفار کے مظالم اور ان کی جارحانہ کارروائیوں سے مجبور ہو کر تلوار اٹھائی لیکن اس کے بعد مسلمانوں نے ظالم دشمن کے ساتھ بھی حسن اخلاق کا وہ نمونہ دکھایا جس کی نظیر پیش کرنے سے تاریخ عاجز ہے۔عربوں میں عور توں اور بچوں تک کو قتل کر دینے کا طریق عام تھا بلکہ یہ طریق موسوی شریعت کے قیام سے دنیا کے معتد بہ حصہ میں وسیع ہو چکا تھا اور اس کے علاوہ عربوں میں یہ بھی رواج تھا کہ مفتوح دشمن کے مقتولوں کے ناک، کان وغیرہ کاٹ کر اپنی وحشیانہ خوشی کو کمال تک پہنچاتے تھے۔اس فتیح رسم کو عرب لوگ مثلہ کرنا کہتے تھے۔آنحضرت صلی ا ہم نے ان سب ظالمانہ طریقوں کو سختی کے ساتھ روک کر حربی دشمن کے ساتھ بھی حسن سلوک کی تعلیم دی اور خیانت اور غداری اور بد عہدی کو قطعی حرام قرار دے کر دنیا میں ایک اعلیٰ ضابطہ اخلاق کی بنیاد قائم کی۔اس کے علاوہ جیسا کہ دوسری احادیث سے ثابت ہے آنحضرت صلی الیم نے یہ بھی حکم دیا کہ حربی دشمن کے بوڑھے لوگوں اور مذہبی خدمت کے لئے اپنی زندگیوں کو وقف کرنے والوں کے خلاف خواہ وہ کسی مذہب و ملت کے ہوں ہاتھ نہ اٹھایا جائے ' اور جیسا کہ قرآن شریف کی سورۃ محمد میں فرماتا ہے 2 جنگی قیدیوں کے متعلق بھی حکم دیا ہے کہ انہیں قتل نہ کیا جائے بلکہ یا تو انہیں بطور احسان چھوڑ دیا جائے اور یا واجبی فدیہ لے کر رہا کر دیا جائے : سنن الكبرى للبيهقى ، كتاب السير ، جماع ابواب السیر ، باب ترک القتل من لاقتال فيه من الرهبان۔۔۔2 : محمد: 4