چالیس جواہر پارے

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 96 of 178

چالیس جواہر پارے — Page 96

96 اور بہر حال جنگ کے اختتام کے بعد ان کی قید کو لمبانہ کیا جائے اور دوران قید بھی جنگی قیدیوں کے ساتھ اسلام نے حسن سلوک کا اس تاکید کے ساتھ حکم دیا کہ خود غیر مسلم قیدیوں کی روایت ہے کہ مسلمان ہمیں اچھا کھانا دیتے تھے اور خود معمولی خوراک پر گزارہ کرتے تھے۔ہمیں اونٹوں پر سوار کرتے تھے اور خود پیدل چلتے تھے۔کیا کسی حربی دشمن کے ساتھ دنیا کی کسی قوم نے تاریخ کے کسی زمانہ میں اس سے بہتر سلوک کیا ہے؟ ہے۔باقی رہاد شمن کے ساتھ عدل و انصاف کا معاملہ سواس کے متعلق قرآن شریف فرماتا لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى یعنی اے مسلمانو! کسی قوم کی دشمنی تمہیں ہر گز اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم اس کے متعلق عدل و انصاف کے رستہ سے ہٹ جاؤ بلکہ تمہیں چاہیے کہ ہر حال میں دشمن کے ساتھ بھی عدل و انصاف کا سلوک کرو کہ یہی تقویٰ کا تقاضا ہے۔66 مگر افسوس کہ دنیا نے اس شان دار تعلیم کی قدر نہیں کی۔1 : المائدة: 9