چالیس جواہر پارے — Page 91
91 21 جنگ کی تمنانہ کرو لیکن اگر لڑائی ہو جائے تو ڈٹ کر مقابلہ کرو عن أبي النظر عن كِتَابِ رَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ مِنْ أَعْمَابِ النَّبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ: عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي أَوْلَى فَكَتَبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ حِينَ سَارَ إلى الحرُورِيَّةِ يُخْبِرُهُ، أَنَّ رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔۔۔۔فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ! لَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُةِ، وَاسْأَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ ظِلالِ السُّيُوفِ۔( صحیح مسلم کتاب الجهاد والسير باب كراهة تمنى لقاء العدو۔۔۔۔۔۔) ترجمہ : عبد اللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تم نے صحابہ سے مخاطب ہو کر فرمایا۔اے مسلمانو! دشمن کے مقابلہ کی کبھی تمنانہ کیا کرو اور خدا سے امن اور عافیت کے خواہاں رہو لیکن جب دشمن کے ساتھ ٹکراؤ ہو جائے تو پھر صبر اور استقلال کے ساتھ مقابلہ کرو اور یاد رکھو جنت تلواروں کے سایہ کے نیچے ہے۔