چالیس جواہر پارے — Page 88
88 20 ہمسایوں کے ساتھ حسن سلوک کی انتہائی تاکید عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرّثُهُ۔(صحيح البخاري كتاب الادب باب الوصاة بالجار) ترجمہ : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علم فرماتے تھے کہ جبریل نے مجھے ہمسایہ کے متعلق خدا کی طرف سے بار بار اتنی تاکید کی ہے کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ شاید وہ اسے وارث ہی قرار دے دے گا۔تشریح: ہمسائے بھی انسانی سوسائٹی میں اہم حصہ ہوتے ہیں اور آنحضرت صلی للی یکم نے ہمسایوں کے ساتھ نیک سلوک کی سخت تاکید فرمائی ہے۔حق یہ ہے کہ جو شخص اپنے ہمسایہ کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتا وہ دراصل انسان کہلانے کا حق دار ہی نہیں کیونکہ انسان ایک متمدن مخلوق ہے اور ہمسایگت تمدن کا ایک لازمی اور ضروری حصہ ہے۔پس باہمی تعلقات کی بہتری اور مضبوطی کے لئے اسلام حکم دیتا ہے کہ ہمسایوں کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے اور اس حکم میں اس قدر تاکید کا پہلو اختیار کرتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ یکم فرماتے ہیں کہ جبریل نے