چالیس جواہر پارے — Page 89
89 مجھے اس بارے میں اس طرح تکرار اور تاکید کے ساتھ کہا کہ میں نے خیال کیا کہ شاید ہمسایہ کو وارث ہی بنادیا جائے گا۔اس تاکیدی حکم کے پیش نظر ہر سچے مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اپنے ہمسایوں کے ساتھ خاص محبت اور احسان کا سلوک کرے اور ان کے دکھ سکھ میں شریک ہو اور ان کی غیر حاضری میں ان کے بیوی بچوں کا خیال رکھے۔آنحضرت صلی اللہ کم کو ہمسایوں کے ساتھ حسن سلوک کا اتنا خیال تھا کہ آپ چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی اس کی تاکید فرماتے تھے۔چنانچہ ایک دوسری حدیث میں آپ فرماتے ہیں کہ جب تم گھر میں گوشت وغیر ہ پکاؤ تو شور به زیاده کر دیا کرو تا تمہارا کھانا حسب ضرورت تمہارے ہمسایہ کے کام بھی آسکے۔دراصل انسان کے اخلاق کا اصل معیار اس کا وہ سلوک ہے جو وہ اپنے ہمسایوں کے ساتھ کرتا ہے۔دور کے لوگوں اور کبھی کبھار ملنے والوں کے ساتھ تو انسان تکلف کے رنگ میں وقتی اخلاق کا اظہار کر دیتا ہے مگر جن لوگوں کے ساتھ اس کا دن رات کا واسطہ پڑتا ہے ان کے ساتھ تکلف نہیں چل سکتا اور انسان کے اخلاق بہت جلد اپنی اصلی صورت میں عریاں ہو کر لوگوں کے سامنے آجاتے ہیں۔پس آنحضرت صلی اللہ علم کا یہ مبارک ارشاد جو اس حدیث میں درج ہے ہمسایوں کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین کے علاوہ بالواسطہ طور پر خود سلوک کرنے والوں کے اپنے اخلاق کی درستی کا بھی ایک عمدہ ذریعہ ہے کیونکہ ہمسایوں کے ساتھ وہی شخص اچھا سلوک کر سکتا ہے جس کے اپنے اخلاق حقیقتاً اچھے ہوں کیونکہ ہمسایوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کے لئے 1 : مسلم كتاب البر والصلة باب الوصية بالجار والاحسان الیہ