چالیس جواہر پارے — Page 74
74 میں دین اور اخلاق کے پہلو کو مقدم رکھا کریں۔آپ فرماتے ہیں کہ اس کے نتیجہ میں ان کی اہلی زندگی کامیاب اور بابرکت رہے گی ورنہ خواہ وہ سطحی اور عارضی خوشی حاصل کر لیں انہیں کبھی بھی حقیقی اور دائمی راحت نصیب نہیں ہو سکتی۔آنحضرت صلی الم کا یہ مبارک ارشاد نہایت گہری حکمت پر مبنی ہے کیونکہ اس میں نہ صرف مسلمانوں کی اہلی زندگی کو بہترین بنیاد پر قائم کرنے کا رستہ کھولا گیا ہے بلکہ ان کی آئندہ نسلوں کی حفاظت اور ترقی کا سامان بھی مہیا کیا گیا ہے مگر افسوس ہے کہ دوسری اقوام تو الگ رہیں خود مسلمانوں میں بھی آج کل کثیر حصہ ان لوگوں کا ہے جو بیوی کا انتخاب کرتے ہوئے یا تو دین اور اخلاق کے پہلو کو بالکل ہی نظر انداز کر دیتے ہیں اور یا دین اور اخلاق کی نسبت دوسری باتوں کی طرف زیادہ دیکھتے ہیں۔کوئی شخص تو عورت کے حسن پر فریفتہ ہو کر باقی باتوں کی طرف سے آنکھیں بند کر لیتا ہے اور کوئی اس کے حسب و نسب کا دلدادہ بن کر دوسری باتوں کو نظر انداز کر دیتا ہے اور کوئی اس کی دولت کے لالچ میں آکر اس کے ہاتھ پر بک جانا چاہتا ہے حالانکہ اصل چیز جو اہلی زندگی کی دائمی خوشی کی بنیاد بن سکتی ہے وہ عورت کا دین اور اس کے اخلاق ہیں۔دنیا میں بے شمار ایسی مثالیں پائی جاتی ہیں کہ ایک شخص نے کسی عورت کو محض اس کی شکل و صورت کی بناء پر انتخاب کیا لیکن کچھ عرصہ گزرنے پر جب اس کے حسن و جمال میں تنزل کے آثار پید اہو گئے کیونکہ جسمانی حسن ایک فانی چیز ہے یا اس کی نسبت کسی زیادہ حسین عورت کو دیکھنے کی وجہ سے بے اصول خاوند کی توجہ اس کی طرف سے ہٹ گئی یا بیوی کے ساتھ شب وروز کا واسطہ پڑنے کے نتیجہ میں اس کے عادات کے بعض ناگوار پہلو خاوند کی آنکھوں کے سامنے آگئے تو ایسی صورت میں