چالیس جواہر پارے — Page 75
75 زندگی کی خوشی تو در کنار خاوند کے لئے اس کا گھر حقیقتاً ایک دوزخ بن جاتا ہے اور یہی حال ب و نسب اور دولت کا ہے کیونکہ حسب و نسب کی وجہ سے تو بسا اوقات بیوی کے دل میں خاوند کے مقابلہ میں بڑائی اور تفاخر کا رنگ پیدا ہو جاتا ہے جو خانگی خوشی کے لئے مہلک ہے اور دولت ایک آنی جانی چیز ہے جو آج ہے اور کل کو ختم ہو سکتی ہے اور پھر بسا اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ بیوی کی دولت خاوند کے لئے ایک مصیبت ہو جاتی ہے اور راحت کا سامان نہیں بنتی۔پس جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ ﷺ نے فرمایا ہے گھر یلو اتحاد اور گھر یلوخوشی کی حقیقی بنیاد عورت کے دین اور اس کے اخلاق پر قائم ہوتی ہے اور بڑا ہی بد قسمت ہے وہ انسان جو ٹھوس اوصاف کو چھوڑ کر وقتی کھلونوں یا ملمع سازی کی چیزوں کے پیچھے بھاگتا ہے۔پھر ایک نیک اور خوش اخلاق بیوی کا جو گہرا اثر اولاد پر پڑتا ہے وہ تو ایک ایسی دائمی نعمت ہے جس کی طرف سے کوئی دانا شخص جسے اپنی ذاتی راحت کے علاوہ نسلی ترقی کا بھی احساس ہو آنکھیں بند نہیں کر سکتا۔ظاہر ہے کہ بچپن میں اولاد کی اصل تربیت ماں کے سپرد ہوتی ہے کیونکہ ایک تو بچپن میں بچہ کو طبعا ماں کی طرف زیادہ رغبت ہوتی ہے اور وہ اسی سے زیادہ بے تکلف ہوتا ہے اور اسی کے پاس اپنا زیادہ وقت گزارتا ہے اور دوسرے باپ اپنے دیگر فرائض کی وجہ سے اولاد کی طرف زیادہ توجہ بھی نہیں دے سکتا۔پس اولاد کی ابتدائی تربیت کی بڑی ذمہ داری بہر حال ماں پر پڑتی ہے۔لہذا اگر ماں نیک اور با اخلاق ہو تو وہ اپنے بچوں کے اخلاق کو شروع سے ہی اچھی بنیاد پر قائم کر دیتی لیکن اس کے مقابل پر ایک ایسی عورت جو دین اور اخلاق کے زیور سے عاری ہے وہ کبھی بھی بچوں میں نیک اخلاق اور نیک