چالیس جواہر پارے

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 46 of 178

چالیس جواہر پارے — Page 46

46 ظاہری تدابیر بھی اختیار کرتا ہے جو شخص محض دعا پر اکتفا کرتا ہے اور بدی کو روکنے کے لئے کوئی ظاہری تدبیر عمل میں نہیں لاتا وہ دراصل اصلاح نفس کے فلسفہ کو بہت کم سمجھا ہے۔دعا میں بے شک بڑی طاقت ہے لیکن زیادہ مؤثر دعاوہ ہے جس کے ساتھ ظاہری تدبیر بھی شامل ہو تا کہ انسان نہ صرف اپنے قول سے بلکہ اپنے عمل کے ذریعہ بھی خدا کے فضل کا جاذب بن سکے۔پس تمام سچے مسلمانوں کو چاہیے کہ آنحضرت صلی ایم کے اس مبارک ارشاد پر عمل کریں یعنی اگر ان کے سامنے کوئی ایسا شخص بدی کا مرتکب ہو جو ان کا کوئی عزیز یا دوست یا ما تحت ہے تو اسے اپنے ہاتھ سے روک دیں اور اگر کوئی ایسا شخص بدی کا مرتکب ہونے لگے جسے ہاتھ سے روکنا ان کے اختیار میں نہیں بلکہ ہاتھ کے ذریعہ روکنا فتنہ کا موجب ہو سکتا ہے تو اسے زبان کی نصیحت سے روکنے کی کوشش کریں لیکن اگر اپنی کمزوری یا فتنہ کے خوف کی وجہ سے انہیں ان دونوں باتوں کی طاقت نہ ہو تو پھر کم از کم اس بدی کے استیصال کے لئے دل میں ہی سچی تڑپ کے ساتھ دعا کریں۔افراد اور خاندانوں اور قوموں کی اصلاح کے لئے یہ تدبیر اتنی مفید اور اتنی مؤثر اور اتنی بابرکت ہے کہ اگر مسلمان اس پر عمل کریں تو ایک بہت قلیل عرصہ میں ملک کی کایا پلٹ سکتی ہے لیکن بدی کے نظاروں کو تماشے کے رنگ میں دیکھنے والا انسان ہر گز سچا مسلمان نہیں سمجھا جا سکتا۔