چالیس جواہر پارے

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 45 of 178

چالیس جواہر پارے — Page 45

45 زبان کے ذریعہ نصیحت کر کے روکنے کی کوشش کرے اور تیسرے یہ کہ اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو پھر دل کے ذریعہ سے روکے۔یاد رکھنا چاہیے کہ اس جگہ ہاتھ سے روکنے سے غیر اور لا تعلق لوگوں کے خلاف تلوار چلانا یا جبر کر نامراد نہیں بلکہ مراد یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اس پوزیشن میں ہو کہ وہ کسی بدی کو اپنے ہاتھ کے زور سے بدل سکے تو اس کا فرض ہے کہ ایسا کرے مثلاً اگر ایک باپ اپنے بچے کو کسی غلط رستہ پر پڑتا دیکھے یا ایک افسر اپنے ماتحت کو یا آقا اپنے نوکر کو بدی کے رستہ پر گامزن پائے تو اس کا فرض ہے کہ اپنے جائز اقتدار کے ذریعہ اس بدی کا سدباب کرے اور زبان سے روکنے سے نصیحت کرنا یا حسب ضرورت مناسب تنبیہ کے ذریعہ روکنا مراد ہے اور دل کے ذریعہ اصلاح کرنے سے محض خاموش رہ کر دل میں بر اماننا مراد نہیں کیونکہ آنحضرت صلی ال ہی میں نے دل کے ذریعہ بدلنے یا روکنے “ کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں اور یہ غرض محض دل میں برا ماننے کے ذریعہ پوری نہیں ہو سکتی۔پس دل کے ذریعہ روکنے سے مراد دل کی دعا ہے جو اصلاح کا ایک تجربہ شدہ ذریعہ ہے اور آنحضرت صلی للی کم کا منشاء یہ ہے کہ اگر ایک انسان کسی بدی کو نہ تو ہاتھ سے روک سکے اور نہ ہی زبان سے روکنے کی طاقت رکھتا ہو تو اسے چاہیے کہ کم از کم دل کی دعا کے ذریعہ ہی اصلاح کی کوشش کرے اور یہ جو آنحضرت صلی اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ دل کے ذریعہ روکنے کی کوشش کرنا سب سے کمزور قسم کا ایمان ہے اس سے یہ مراد ہے کہ محض دل کی دعا پر اکتفا کرنا بہت کمزور قسم کی چیز ہے۔اصل مجاہد انسان وہی سمجھا جا سکتا ہے جو دل کی دعا کے ساتھ ساتھ خدا کی پیدا کردہ