چالیس جواہر پارے — Page 10
10 جب نماز کے متعلق قرآنی احکام نازل ہوتے تو بظاہر ان احکام میں نماز کی پوری پوری تفصیل صراحتاً درج نہیں تھی کہ دن میں کتنی نمازیں فرض ہیں اور انکا کون کون سا وقت ہے اور ہر نماز میں کتنی رکعات ہونی چاہیں اور ہر رکعت کس طرح ادا کی جانی ضروری ہے وغیرہ وغیرہ۔اس پر آپ نے خدا تعالیٰ کی وحی خفی کے ماتحت یا خداداد نور نبوت کی روشنی میں صحابہ کے سامنے ان احکام کا عملی نمونہ پیش کیا اور صحابہ کو اپنی نگرانی میں اس نمونہ پر قائم فرما دیا اور پھر صحابہ نے آگے اپنے نمونہ کا عملی ورثہ تابعین کو دیا اور تابعین نے آگے یہ سبق اپنے عملی نمونہ کے ذریعہ تبع تابعین تک پہنچایا اور اس طرح تعامل کی ایک مسلسل زنجیر قائم ہوتی چلی گئی۔پس دراصل سنت حدیث سے ایک بالکل علیحدہ اور جدا گانہ چیز ہے اور حدیث کی نسبت بہت زیادہ وزن اور پختگی کا پہلور کھتی ہے اس لئے ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ اسلامی شریعت کی اصل بنیاد قرآن شریف اور سنت پر ہے کیونکہ قرآن خدا کا کلام ہے اور سنت اس کلام کی تشریح ہے جو خدا کے رسول نے اپنے عملی نمونہ سے قائم فرمائی اور پھر وہ صحابہ کرام کے عملی نمونہ کے ذریعہ بعد والی نسل کو پہنچی اور پھر بعد والی نسل سے اس سے بعد والی نسل کو پہنچی اور اس طرح ایک شمع سے دوسری شمع روشن ہوتی چلی گئی لیکن اس کے مقابل پر حدیث جو قولی روایات کا مجموعہ ہے (حتی کہ اس کی فعلی اور تقریری حدیثیں بھی دراصل قولی روایات کے ذریعہ ہی ہم تک پہنچی ہیں) صرف ایک تائیدی گواہ کا رنگ رکھتی ہے۔بے شک وہ ایک زبر دست تائیدی گواہ ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا مگر بہر حال اسے وہ بنیادی حیثیت