چالیس جواہر پارے

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 7 of 178

چالیس جواہر پارے — Page 7

7 (۲) حدیث فعلی: یعنی وہ حدیث جس میں آنحضرت صلی نام کے کسی قول کا ذکر نہ ہو بلکہ صرف فعل کا ذکر ہو مثلاً یہ کہ آنحضرت صلی الی یکم نے فلاں موقع پر یہ کام کیا یا فلاں دینی فریضہ اس رنگ میں ادا فرمایا وغیرہ وغیرہ۔(۳) حدیث تقریری: یعنی وہ حدیث جس میں آنحضرت صلی اللہ یکم کا کوئی قول یا فعل تو بیان نہ کیا گیا ہو لیکن یہ ذکر ہو کہ آپ کے سامنے فلاں شخص نے فلاں کام کیا یا فلاں بات کہی اور اسے آپ نے اس کام کے کرنے یا اس بات کے کہنے سے نہیں روکا۔دراصل عربی زبان میں ” تقریر “ کے معنی بولنے کے نہیں ہوتے بلکہ کسی بات کو برقرار رکھنے کے ہوتے ہیں۔پس حدیث تقریری سے وہ حدیث مراد ہے جس میں آنحضرت صلی الی یکم نے کسی صحابی کے فعل یا قول کو صحیح سمجھتے ہوئے اسے بر قرار رکھا ہو اور اس پر اعتراض نہ فرمایا ہو۔(۴) حدیث قدسی: یعنی وہ حدیث جس میں آنحضرت صلی اللہ تم نے خدا تعالیٰ کی طرف کوئی ارشاد یا فعل منسوب کیا ہو مثلاً یہ فرمایا ہو کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اس طرح ارشاد فرمایا ہے اور یہ بات قرآنی وحی کے علاوہ ہو۔(۵) حدیث مرفوع : یعنی وہ حدیث جس کا سلسلہ آنحضرت صلی للی کم تک پہنچتا ہو اور آپ کی طرف کوئی بات براہ راست منسوب کی گئی ہو کہ آپ نے فلاں موقع پر یہ بات فرمائی۔وو