چالیس جواہر پارے

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 144 of 178

چالیس جواہر پارے — Page 144

144 خطرہ کے سد باب کے لئے بے چین ہو گئی۔چنانچہ آپ کے احکام اس قسم کے ارشادات سے بھرے پڑے ہیں جن میں سوال کرنے کو انتہائی کراہت کی نظر سے دیکھا گیا ہے اور غریبوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ محنت کی روزی کمائیں اور سوال کرنے سے پر ہیز کریں۔زیر نظر حدیث بھی ان حدیثوں میں سے ایک ہے۔اس حدیث میں آنحضرت صلی الی یکم فرماتے ہیں کہ گو متمول لوگوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے غریب بھائیوں کی امداد کریں مگر غریبوں کو بہر حال سوال سے پر ہیز کرتے ہوئے اپنے آپ کو باوقار رکھنا چاہیے اور پھر غربا میں عزت' زت نفس کا جذبہ پیدا کرنے کے لئے فرماتے ہیں کہ اوپر کا ہاتھ (یعنی دینے والا ہاتھ ) نیچے کے ہاتھ (یعنی لینے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے۔“ ان مختصر الفاظ میں آپ نے خود داری اور عزت نفس کی وہ روح بھر دی ہے جس کی کامل تفصیل شاید ضخیم کتابوں میں بھی نہ سما سکتی۔صحابہ کی مقدس جماعت نے جب آپ کے اس ارشاد کو سناتو اسے اپنے سر آنکھوں پر جگہ دی۔چنانچہ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ کے اس ارشاد کے بعد میں نے کبھی کسی سے کوئی امداد نہیں لی۔مجھے خلفاء کی طرف سے مقررہ امداد کی رقم آتی تھی مگر میں یہ کہتے ہوئے ہمیشہ انکار کر دیتا تھا کہ رسول اللہ صلی علیم نے جس ہاتھ کو اونچارکھنے کا حکم دیا ہے میں اسے نیچا نہیں ہونے دوں گا۔حضرت علی آنحضرت صلی الی یکم کے چچازاد بھائی بھی تھے اور داماد بھی تھے اور پھر آپ کے بعد اسلام کے چوتھے خلیفہ بھی ہوئے اور قریش کے ایک نہایت معزز گھرانے سے تعلق رکھتے تھے ان کا ہجرت کے بعد یہ حال تھا کہ کلہاڑا لے کر جنگل میں 1 : بخاری کتاب الزكاة باب الاستعفاف عن المسئلة