چالیس جواہر پارے — Page 145
145 جاتے اور لکڑی کاٹ کر مدینہ میں لاتے اور اسے بازار میں بیچ کر اپنا گزارہ چلاتے تھے مگر کبھی کسی کے سامنے دست سوال دراز نہیں کیا۔ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ مشہور صحابی ہیں۔انہیں بعض اوقات کئی کئی دن کا فاقہ ہو جاتا تھا مگر کبھی کسی سے سوال نہیں کیا۔ایک دفعہ بھوک نے نڈھال کر دیا تو صرف حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ سے اتنا پوچھا کہ فلاں قرآنی آیت کے کیا معنی ہیں ؟ اس آیت میں بھوکوں کو کھانا کھلانے کی تاکید تھی مگر اس وقت حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ نے ان کا یہ اشارہ نہیں سمجھا اور معمولی تشریح بیان کر کے آگے روانہ ہو گئے۔اتفاق سے آنحضرت صلی اللہ کی یہ گفتگو سن رہے تھے۔آپ نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو آواز دی کہ معلوم ہوتا ہے تمہیں بھوک لگی ہے۔آؤ ادھر آؤ۔پھر آپ نے انہیں کچھ دودھ پینے کو دیا۔اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ ایک دفعہ ایک سفر پر جاتے ہوئے ایک گھوڑے سوار معزز صحابی کا کوڑا ان کے ہاتھ سے نیچے گر گیا۔اس وقت ان کے آس پاس بعض پیدل لوگ بھی سفر کر رہے تھے مگر انہوں نے خود سواری سے نیچے اتر کر اپنا کوڑا اٹھایا اور کسی سے امداد کے طالب نہیں ہوئے اور جب ان کے ایک ساتھی نے ان سے کہا کہ آپ نے ہمیں کیوں نہ کہہ دیا کہ ہم آپ کا کوڑا اٹھا کر آپ کو دے دیتے تو انہوں نے جواب میں کہا کہ رسول خدا نے سوال سے منع کیا ہے اور میں اگر آپ سے کوڑا اٹھانے کو کہتا تو یہ بھی گویا سوال ہی کا رنگ ہو جاتا۔: بخاری کتاب الرقاق باب كيف كان عيش رسول اللہ صلعلم 2 : ابن ماجہ کتاب الزکاۃ باب کراھیۃ المسئلة