چالیس جواہر پارے — Page 139
139 کے مقابل پر دنیا کی چار روزہ زندگی کیا حقیقت رکھتی ہے ؟ اور پھر یہ کہتے ہوئے غریبوں کی مزید تسلی فرمائی کہ الْفَقْرُ فَخری یعنی اے میری اُمت کے غریب لوگو! دیکھو میں نے اپنے واسطے بھی دنیا کی کوئی دولت جمع نہیں کی بلکہ میں تمہارے ساتھ ہوں اور تم میں سے ہی ایک غریب انسان ہوں اور اس فقر میں ہی میر افخر ہے“۔۔دوسری طرف اوپر کی حدیث میں ”پسینہ خشک ہونے سے پہلے “ کے الفاظ فرما کر یہ لطیف اشارہ بھی کیا ہے کہ خدا کے نزدیک سچا مز دور وہ ہے جو اپنے کام میں پسینہ بہاتا ہے۔یو نہی دکھاوے کے طور پر کام کرنے والا اور مالک کی نظر سے اوجھل ہونے پر ستی دکھانے والا یا خیانت کرنے والا شخص ہر گز خدا کے نزدیک سچا مزدور نہیں سمجھا جا سکتا۔پس ایک طرف آقا کا فرض ہے کہ وہ اجیر کو واجبی مزدوری دے اور اسکی مزدوری میں دیر نہ کرے اور اس کے حقوق کا خیال رکھے تو دوسری طرف مزدور کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ اپنے کام میں پسینہ بہا کر اپنے آپ کو سچا اور دیانت دار مز دور ثابت کر دے۔یہی وہ وسطی تعلیم ہے جو مالک اور مزدور اور آقا اور اجیر کے درمیان اچھے تعلقات پیدا کر کے سوسائٹی میں حقیقی امن کی بنیاد بن سکتی ہے۔: تفسير روح البيان، سورة العنكبوت، آيت 46 تا 49 ( ولا تجادلوا اهل الكتاب الا بالتي هي احسن۔۔۔۔۔) 1