چالیس جواہر پارے

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 138 of 178

چالیس جواہر پارے — Page 138

138 طرف عمومی توجہ دلانا اصل غرض تھی اور چونکہ اُجرت کی بر وقت ادائیگی مزدور کے حقوق کا سب سے ادنیٰ حصہ ہوتا ہے اس لئے آپ نے مثال کے طور پر اس ادنی حصہ کا ذکر کر کے تاکید فرما دی تا کہ ادنی حصہ کی طرف توجہ خود بخود اعلیٰ حصوں کی حفاظت کا موجب بن جائے۔اس میں کیا شبہ ہے کہ جو مصلح اجرت کی ادائیگی کے لئے مزدور کا پسینہ خشک ہونے کی بھی مہلت نہیں دیتا وہ دراصل ان الفاظ میں یہ بھی بتانا چاہتا ہے کہ مزدور کو اس کی پوری پوری اجرت دو اور اس کے واجب آرام کا خیال رکھو اور اس پر کوئی ایسا بوجھ نہ ڈالو جو اس کی طاقت سے باہر ہو۔چنانچہ جو تعلیم آپ نے خادموں کے ساتھ حسن سلوک کے بارے میں دی ہے یا جو ارشاد آپ نے اسلامی اخوت اور اسلامی مساوات کے متعلق فرمایا ہے (جس کی کسی قدر تفصیل خاکسار مؤلف کی کتاب سیرۃ خاتم النبيين حصہ نمبر ۲ و نمبر ۳ میں بیان کی جاچکی ہے ) وہ اس بات پر شاہد ہے کہ ہمارے آقا صلی الی یکم غریب طبقہ کے کتنے ہمدرد، کتنے بہی خواہ اور ان کے حقوق کے کس درجہ محافظ تھے۔آپ نے انفرادی جد و جہد کے محرک کو زندہ رکھنے اور ہر شخص کو اس کی ذاتی سعی کے ثمرہ سے حصہ دینے کے لئے بے شک انفرادی جائیداد کی اجازت مرحمت فرمائی مگر ساتھ ہی زکوۃ اور حرمت سود اور تقسیم ورثہ وغیرہ کے زریں اصولوں کے ذریعہ دولت کو سموتے رہنے کی بھی ایک مؤثر مشینری قائم فرما دی اور جو فرق بھی باقی رہ جائے اس کے متعلق ایک دوسری حدیث میں غریبوں کی دلداری کے لئے فرمایا کہ تم لوگ اگر ایمان پر قائم رہو تو امیروں کی نسبت پانچ سو سال پہلے جنت میں جاؤ گے اور ظاہر ہے کہ آخرت کی جاودانی زندگی