چالیس جواہر پارے — Page 123
123 ہوئے نوجوانوں کے کانوں میں آپ کی یہ روح پرور آواز پہنچی اور وہ ایک جست کے ساتھ آگے بڑھے اور آپ کے دست مبارک کو اپنے ہاتھوں میں لے کر خوشی سے چومنے لگ گئے۔یہ وہ درس حکمت ہے جو ہمارے آقا ( فداہ نفسی) نے اپنے صحابہ کو عملاً دیا اور جس کی آپ نے اوپر کی حدیث کے ذریعہ قولاً تلقین فرمائی۔اللهم صل على محمد وبارك وسلم اس حدیث میں جو اهْلَكَهُمُ کا لفظ آتا ہے یعنی ایسا شخص خود انہیں ہلاک کرنے والا ہے۔اس کے دوسرے معنی اعراب کی خفیف تبدیلی کے ساتھ (یعنی کاف کی پیش سے ) یہ بھی ہیں کہ وہ خود سب سے زیادہ ہلاک شدہ ہے“۔اور ظاہر ہے کہ اس معنی کے لحاظ سے بھی یہ حدیث نہایت لطیف مفہوم کی حامل قرار پاتی ہے کیونکہ اس صورت میں اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ایسا شخص جو دوسروں کو ہلاک شدہ قرار دیتا ہے وہ دراصل خود سب سے زیادہ شکست خوردہ ذہنیت میں مبتلا ہے۔پس خواہ دوسرے لوگ ہلاک شدہ ہوں یا نہ ہوں وہ یہ الفاظ کہہ کر اپنی ہلاکت پر ضرور مہر لگا لیتا ہے۔