چالیس جواہر پارے

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 116 of 178

چالیس جواہر پارے — Page 116

116 گندے ہوں گے تو اعمال بھی لا محالہ گندے رستہ پر پڑ جائیں گے کیونکہ دل کے جذبات بیج کا رنگ رکھتے ہیں اور عمل وہ درخت ہے جو اس کے بیج سے پیدا ہو تا ہے۔پس اصلاح کے لئے اصل فکر دل کی ہونی چاہیے۔اگر قوم کے لیڈر اور ملک کے اخبارات عوام الناس کے دلوں میں اور کالجوں کے پروفیسر ز اور سکولوں کے اساتذہ طلباء کے دلوں میں اور والدین اپنے بچوں کے دلوں میں نیک جذبات پیدا کر دیں اور ان میں خدا کی محبت اور رسول کی محبت اور دین کی محبت کے ساتھ ساتھ قوم کے درد اور خدمت اور قربانی اور صداقت اور دیانت کا بیج بو دیں تو پھر نیک اعمال کے لئے علیحدہ فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ دل کا تقویٰ خود بخود عمل صالح کا درخت اگانا شروع کر دے گا لیکن اگر دل خراب ہے تو پھر عمل کا درخت اوّل تو اُگے گا ہی نہیں اور اگر اُگے گا تو فوراہی ٹھٹھر کر ختم ہو جائے گا۔حضرت مسیح موعود بانی سلسلہ احمدیہ نے کیا خوب فرمایا ہے کہ ہر اک نیکی کی جڑ یہ انتقا ہے اگر یہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے! حق یہی ہے کہ انسان کا دل اس کے تمام نیک اعمال کا منبع اور مولد ہے۔اگر دل ٹھیک ہو تو ہاتھ اور پاؤں اور زبان اور آنکھ کے اعمال خود بخود ٹھیک ہو جاتے ہیں لیکن اگر دل گندہ ہو تو انسان کے ہر عمل میں گندگی اور نجاست کی بو پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے۔ایسا انسان اگر بظاہر نیک عمل بجالاتا بھی ہو تو اس کے اعمال میں خشک نقالی یا منافقانہ ریا کے سوا کچھ حقیقت نہیں ہوتی۔: در ثمین (اردو)، بشیر احمد شریف احمد اور مبارکہ کی آمین