چالیس جواہر پارے — Page 105
105 ہے لیکن جب اس کا چرچالوگوں کی زبانوں پر ہونے لگے تو کئی کمزور نوجوان اس کے گندے اثر سے متاثر ہونے لگتے ہیں اور بدی کا وہ قدرتی رعب جو فطرت انسانی کا حصہ اور بدی کو روکنے کا ایک زبر دست آلہ ہے کمزور پڑنا شروع ہو جاتا ہے اس لئے اسلام نے جہاں اصل بدی کو روکا ہے وہاں اس نے بہتان تراشی اور بدی کے چرچے کا رستہ بھی بڑی سختی کے ساتھ بند کیا ہے اور یہی وہ حکمت کی راہ ہے جو قوم کی حقیقی اصلاح کی موجب ہو سکتی ہے۔پھر اگر اخلاق و اطوار کے مختلف پہلوؤں کے لحاظ سے اس حدیث پر نظر ڈالی جائے تو اس حدیث کی ایک اور خوبی بھی نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے اور وہ یہ کہ اس حدیث میں ایمانیات اور اخلاقیات اور قیام امن اور اقتصادیات اور کمزوروں کے حقوق کی حفاظت اور قومی بقاء اور بے حیائی کے انسداد کو نہایت لطیف رنگ میں مد نظر رکھا گیا ہے مثلاً شرک سے اجتناب کرنے کا ذکر ایمان کی حفاظت کی غرض سے داخل کیا گیا ہے۔سحر کی حرمت کو کیریکٹر کی بلندی اور عادات کی صفائی کے پیش نظر شامل کیا گیا ہے۔قتل ناحق کے ذکر کو امن عامہ کی غرض سے داخل کیا گیا ہے۔سود کی حرمت کو اقتصادی اصلاح کی بنا پر شامل کیا گیا ہے۔یتیم کی حفاظت کے حکم کو کمزوروں کے ساتھ عدل و انصاف کے قیام کی غرض سے داخل کیا گیا ہے اور بہتان تراشی کی حرمت کو بے حیائی کے سد باب کے لئے داخل کیا گیا ہے۔اس طرح ہمارے آقا صلی الیم نے ہمارے لئے در حقیقت اس زریں ہدایت کے ذریعہ دریا کو کوزے میں بند کر کے محفوظ کر دیا ہے۔